بینظیرہنرمند پروگرام بی آئی ایس پی کے مستحق خاندانوں کو غربت سے نجات دلانے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے، سینیٹر روبینہ خالد
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اکتوبر2025ء) چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بینظیر ہنرمند پروگرام بی آئی ایس پی کے مستحق خاندانوں کو غربت سے نجات دلانے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے،تقریباً ایک کروڑ مستحق خاندان بی آئی ایس پی کے کیش ٹرانسفر پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں کیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ غربت کے خاتمے، خواتین کو بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کام کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی پاکستان کے سب سے اہم سماجی تحفظ کے پروگراموں میں سے ایک ہے اوراس کا شمار دنیا کے نمایاں سماجی فلاحی اقدامات میں ہوتا ہے جو غریب ترین گھرانوں کو سماجی تحفظ اور خود انحصاری و وقار کی راہیں ہموار کرکے لاکھوں زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ غربت صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ یہ خودمختاری اور مساوی مواقع کی کمی ہے، بی آئی ایس پی نے پاکستان بھر میں لاکھوں خواتین کو نہ صرف مالی بلکہ گھریلو، برادری اور سیاسی فیصلوں میں بھی بااختیار بنایا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ حال ہی میں شروع کیا گیا بینظیر ہنرمند پروگرام بی آئی ایس پی کے مستحق خاندانوں کو غربت سے نجات دلانے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے، اس پروگرام کا افتتاح 21 جون کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا، بینظیر ہنرمند پروگرام کا مقصد مستحقین کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ ان کے روزگار کے مواقع بڑھیں اور یہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں، یہ اقدام ایک خوشحال اور مساوی پاکستان کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کو آگے بڑھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 1 کروڑ مستحق خاندان بی آئی ایس پی کے کیش ٹرانسفر پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، اس کے علاوہ پروگرام کے دیگر اقدامات جیسے بینظیر نشوونما اور بینظیر تعلیمی وظائف مستحق خاندانوں کو انحصار سے خود انحصاری کی طرف بڑھنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی ادائیگیوں کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے تاکہ مالی امداد مستفید خواتین تک براہ راست، شفاف اور موثر طریقے سے پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے وژن کی رہنمائی میں ہم بہت جلد بی آئی ایس پی کے تمام مستحقین کے لیے بینک اکائونٹس اور ڈیجیٹل والٹ اکائونٹس کھولنے جا رہے ہیں تاکہ مالی امداد محفوظ طریقے سے اور غیر ضروری انسانی مداخلت کے بغیر ان تک پہنچ سکے، یہ ڈیجیٹل تبدیلی شفافیت، احتساب اور مالی شمولیت کو مزید مضبوط کرے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا مستحق خاندانوں کو بی آئی ایس پی کے انہوں نے کہا کہ رہے ہیں رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :