اسرائیل نے فلسطینی شہدا کی لاشوں سے اعضا چرا لیے ، غزہ حکام کا بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رام اللہ: غزہ کے حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں فلسطینی شہدا کی لاشوں سے انسانی اعضا چوری کیے ہیں، حکام نے اس عمل کو انسانیت سوز اور خوفناک جرم، قرار دیتے ہوئے فوری طور پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیل کو ان سنگین جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل ثوابتہ نےکہا کہ قابض اسرائیلی فوج نے گزشتہ تین دنوں کے دوران ریڈ کراس کے ذریعے 120 فلسطینی شہدا کی لاشیں واپس کیں، جن میں سے بیشتر کی حالت نہایت ابتر تھی۔
ان کے مطابق کئی لاشوں پر تشدد، گولیوں کے زخم اور گلا گھونٹنے کے نشانات واضح طور پر موجود تھے، متعدد لاشوں کی آنکھیں، قرنیے اور دیگر اعضا غائب تھے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے جسموں سے اعضا نکالے۔
انہوں نے کہاکہ یہ ایک وحشیانہ جرم ہے جو انسانی وقار اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسرائیل جنگ بندی کی پالیسی پر عمل کرنے کے بجائے، فلسطینی حکام نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے جرائم صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتے ہیں، دنیا اگر خاموش رہی تو اسرائیل کی جانب سے شہدا کے جسموں کی بے حرمتی اور اعضا کی چوری کا یہ سلسلہ مزید بڑھ جائے گا۔
خیال رہےکہ فلسطینی شہدا کی لاشوں کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق اس وقت اسرائیل کے قبضے میں 735 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں موجود ہیں، جن میں 67 بچے بھی شامل ہیں۔
ادارے کا کہنا کہ کئی لاشیں نامعلوم مقامات پر اجتماعی قبروں میں دفن کی گئی ہیں جبکہ بعض کو مخصوص فوجی اڈوں میں رکھا گیا ہے، جنوبی اسرائیل کے النقب میں واقع سدے تیمن فوجی اڈے پر غزہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1500 فلسطینیوں کی لاشیں موجود ہیں، تاہم اسرائیلی فوج نے تاحال ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
غزہ حکام نے عالمی ضمیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاست نہیں بلکہ انسانی اقدار کی آزمائش ہے، ہم دنیا سے انصاف مانگتے ہیں، تاکہ شہدا کی لاشوں کے ساتھ ہونے والی یہ بے حرمتی ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکے۔”
خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی شہدا کی اسرائیلی فوج نے شہدا کی لاشوں کہ اسرائیل اسرائیل کے حکام نے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز