Islam Times:
2026-07-24@03:08:49 GMT

اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے، حماس

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے، حماس

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک مختصر بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیلی قیدیوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، حماس نے واضح کیا کہ انہوں نے تمام زندہ قیدیوں کے ساتھ ساتھ وہ لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کر دیں، جن تک رسائی ممکن تھی۔ اسلام ٹائمز۔ حماس نے کہا کہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حماس رہنماؤں نے کہا کہ کچھ لاشیں تباہ شدہ سرنگوں میں دفن ہیں، متعدد لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، قیدیوں کی لاشیں نکالنے کیلئے آلات درکار ہیں، ملبہ ہٹانے والے آلات اسرائیلی پابندی کی وجہ سے دستیاب نہیں۔ واضح رہے کہ حماس نے گذشتہ روز غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 2 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی تھیں، حماس نے دونوں قیدیوں کی لاشوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا تھا، جنہوں نے لاشیں غزہ میں موجود اسرائیلی فوج کے سپرد کی تھیں۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک مختصر بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیلی قیدیوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، حماس نے واضح کیا کہ انہوں نے تمام زندہ قیدیوں کے ساتھ ساتھ وہ لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کر دیں، جن تک رسائی ممکن تھی۔

حماس کا مزید کہنا تھا کہ قیدیوں کی دیگر لاشوں کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں اور خصوصی آلات کی ضرورت ہے، تاکہ انہیں تلاش کرکے نکالا جا سکے اور ہم اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، تاکہ یہ معاملہ جلد از جلد مکمل ہوسکے۔ یاد رہے کہ حماس اس سے قبل بھی 8 قیدیوں کی لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کرچکا ہے، تاہم اب مزید 2 لاشیں حوالے کر دی گئیں، جس کے بعد اسرائیل کو موصول ہونے والے ہلاک قیدیوں کی لاشوں کی تعداد 10 ہوگئی۔ ایک غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حماس کی قید کے دوران جو قیدی ہلاک ہوئے، وہ ممکنہ طور پر غزہ پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے حوالے کر اسرائیلی قیدیوں قیدیوں کی لاشوں نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم