Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:26:54 GMT

اسرائیل نے فلسطینی شہدا کی لاشوں سے انسانی اعضا چرا لیے

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

اسرائیل نے فلسطینی شہدا کی لاشوں سے انسانی اعضا چرا لیے

غزہ کے حکام نے جمعے کو الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہداء کی لاشوں سے انسانی اعضا چوری کیے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس سنگین جرم کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل ثوابتہ نے ترک خبررساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے گزشتہ تین دنوں میں ریڈ کراس کے ذریعے 120 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کی حالت بہت خراب تھی اور ان پر قتل و تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔
ثوابتہ کے مطابق کئی لاشوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور ہاتھ پاؤں بھی بندھے ہوئے تھے، جبکہ کچھ کے گلے پر رسیاں تھیں جو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد لاشوں کے انسانی اعضا، جن میں آنکھیں اور قرنیے شامل ہیں، غائب تھے، جو اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک وحشیانہ جرم ہے۔
فلسطینی حکام نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری طور پر ایک بین الاقوامی تفتیشی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیل کو شہداء کے جسموں کی بے حرمتی اور اعضا چوری جیسے سنگین جرائم کا جوابدہ بنایا جا سکے۔
ترک خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا۔
فلسطینی شہداء کی لاشوں کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق، اسرائیل کے قبضے میں فی الحال 735 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں موجود ہیں جن میں 67 بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق، جنوبی النقب کے سدے تیمن فوجی اڈے پر تقریباً 1500 فلسطینیوں کی لاشیں رکھی گئی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے مطابق

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق