فلسطینی اتھارٹی کا غزہ کی تعمیرِ نو کا پانچ سالہ منصوبہ، 65 ارب ڈالر درکار
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رام اللہ: فلسطینی اتھارٹی نے جنگ سے تباہ شدہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے پانچ سالہ جامع منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد علاقے کو دوبارہ آباد، مربوط اور ترقی یافتہ بنانا ہے, منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے مجموعی طور پر 65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
رہائش، تعلیم، صحت اور حکمرانی پر فوکس
فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفٰیٰ نے اقوامِ متحدہ کے نمائندوں اور مختلف ممالک کے سفارتی مشنوں سے ملاقات کے دوران منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ رہائش، تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے، بجلی، پانی، اور حکمرانی سمیت 18 مختلف شعبوں پر محیط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کا ہدف ہے کہ بارہ ماہ کے اندر غزہ میں مکمل انتظامی اور سیکیورٹی سطح پر واپسی ممکن بنائی جائے تاکہ علاقے میں معمول کی زندگی دوبارہ بحال ہو سکے۔
تین مراحل میں بحالی کا عمل
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تین مراحل طے کیے گئے ہیں، پہلے مرحلے میں فوری بحالی اور عارضی رہائش گاہوں کی فراہمی،دوسرے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے، اسپتالوں، اسکولوں اور توانائی کے نظام کی تعمیر جبکہ تیسرے مرحلے میں روزگار، مقامی صنعت، گورننس اور سیاسی استحکام کے اقدامات شامل ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ منصوبے کا ایک بڑا مقصد غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان سیاسی و انتظامی یکجہتی بحال کرنا ہے تاکہ ایک متحد اور مستحکم فلسطینی حکومت کی راہ ہموار ہو۔
محمد مصطفٰیٰ نے کہا کہ مصر اور اردن کے ساتھ پولیس ٹریننگ پروگرام شروع ہو چکے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ کسٹمز، عبوری آپریشنز اور مربوط پولیسنگ سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعمیر نو اور بحالی کے عمل کے لیے بین الاقوامی برادری کی مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی حمایت ناگزیر ہے، غزہ میں مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کے حوالے سے صورتحال ابھی غیر یقینی ہے کیونکہ اسرائیلی قیادت اس حوالے سے کئی نکات پر اختلاف رکھتی ہے۔
اسی دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان لاشوں کی واپسی پر بھی کشیدگی برقرار ہے ، حماس نے کچھ لاشیں واپس کی ہیں جبکہ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کے باعث بازیابی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں فعال کردار ادا کرے تاکہ فلسطینی عوام کو طویل جنگ کے بعد پائیدار امن، ترقی اور باوقار زندگی کا موقع مل سکے۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی اتھارٹی کی تعمیر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔