لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اکتوبر2025ء) ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے علاقوں میں جعلی ملاوٹ دودھ و اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا ، رہائشی علاقے میں چھپ کر جعلی دودھ تیار کرنا والا گروہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔فوڈ سیفی ٹیموں نے باگڑیاں روڈ، امیر چوک، گرین ٹائون علاقوں میں کریک ڈائون کیا ، 13ہزار 700لیٹر جعلی دودھ، 425کلو پائوڈر، 192کلو گھی تلف کر دیا اور 34ٹین گھی، 51ڈرم، 13فریزر، 5 کانٹر، سلنڈر، مکسنگ مشین اور چولہا سمیت دیگر اشیاء ضبط کر لی گئیں ۔

اس کے ساتھ 4ملک شاپس، کولیکشن سنٹرز کی چیکنگ،4شاپس بند،2مقدمات درج،5ملزم گرفتار کروائے گئے ۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے بتایا کہ تیار دودھ کو رات گئے تہجد اور فجر کے اوقات میں دوکانوں پر سپلائی کیا جاتا تھا، پاوڈر،کیمکلز، ناقص گھی اور جعلی گاڑھا محلول موقع سے برآمد کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہجعلی دودھ میں استعمال ہونے والے اجزا انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوتے ہیں۔

لاہور کے علاوہ قصور میں 1800لیٹر ، فیصل آباد 2275لیٹر، ڈیرہ غازی خان میں 1710لیٹر، سرگودھا، گوجرانوالہ، ساہیوال اور راولپنڈی میں 1ہزار 50لیٹر ناقص دودھ تلف کیا گیا، صوبہ بھر میں جعلی دودھ تیار کرنے والوں کیخلاف 10مقدمات درج کروائے گئے۔عاصم جاوید نے کہا کہ ناقص دودھ کا استعمال بچوں اور بڑوں کو پیٹ ،معدہ اور آنتوں کی بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے، شہریوں سے گزارش ہے کہ اپنے اردگرد موجود جعلساز عناصر کی شکایت 1223یا فیس بک پیج پر ان باکس کر کے درج کروائیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جعلی دودھ

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار