اسلام آباد: نام نہاد اماراتِ اسلامی کے علم بردار افغان طالبان بدقسمتی سے بھارت کے ہاتھوں کھیلنے لگے ہیں، جبکہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لیے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان دونوں کو پاکستان مخالف پراپیگنڈے میں استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا مسلسل پاکستان مخالف جھوٹی خبریں اور پراپیگنڈا نشر کر رہا ہے۔ 15 اکتوبر کو پاکستانی ٹینک افغان طالبان کے قبضے میں لینے کا جھوٹا دعویٰ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کیا، جسے بھارتی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

تاہم فیکٹ چیک گروک نے اس جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا روسی ساختہ ٹینک دراصل افغان طالبان کے اپنے زیر استعمال ہے۔

اسی طرح ذبیح اللہ مجاہد کے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ دوستی گیٹ کو پاکستان نے تباہ کیا، مگر حقائق کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان کی سمت والے گیٹ پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا۔ پاکستانی سمت میں موجود گیٹ مکمل طور پر محفوظ اور بحال ہے۔

بھارتی میڈیا نے کابل دھماکے کو بھی آئل ٹینکر پھٹنے سے منسوب کیا، جب کہ اصل میں یہ دھماکہ پاک فوج کی پریسیژن اسٹرائیکس کے نتیجے میں ہوا۔

مزید برآں، بھارت کے گودی میڈیا نے شمالی وزیرستان کے شہری عادل داوڑ کو شہید پاکستانی فوجی ظاہر کیا، مگر عادل داوڑ نے خود ویڈیو پیغام کے ذریعے اس جھوٹے دعوے کو مسترد کر دیا۔

یہ جھوٹے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج اب بھارت کے منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ہمیشہ بھارتی پروپیگنڈا کا جواب ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ دیا گیا ہے۔ ماضی کی طرح اس وقت بھی پاکستان افغان جارحیت اور جھوٹے بھارتی دعوؤں کا مقابلہ ٹھوس حقائق کے ساتھ کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پاک فوج نے طالبان اور فتنہ الخوارج کے بھارت کے ساتھ مشترکہ مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان طالبان بھارت کے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد