تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ”بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو ” کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر اجلاس ہوا جس میں وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کا عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کو ایوان میں آکر ملاقات نہ کرانے کی قانونی وجوہات بتانے کا مطالبہ کیا جس پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ میری اسپیکر سے بات ہوئی کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ اورا سپیکر کے حوالے سے میٹنگ ہونی چاہیے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ سوشل میڈیا کے جن اکائونٹس سے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالہ سے بے بنیاد خبریں پھیلا ئی جا رہی ہیں یہ سارے اکائونٹس انڈین ہیں جو کہ افغان میڈیا کا حوالہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان میڈیا کو بھی انڈیا نے ہی یہ بے بنیاد خبریں فیڈ کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک اور ان کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں۔ذیشان خانزادہ نے کہاکہ اگر جواب نہیں ملتا تو ہم ایوان کو نہیں چلنے دیں گے ۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ آپ کو ہر طرح سے مطمئن کریں گے مگر آپ ہاؤس کو اس طرح دھمکی نہیں دے سکتے ،اس دوران سینیٹر محسن عزیز نے کورم کی نشاندہی کردی ،کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کر نا پڑا ۔ پریذائڈنگ افسر سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اگر کوئی سینیٹر آئین کی کتاب کو ڈائس پر مارے گا تو اس کو ہم دیکھیں گے ،اس بارے میں علی ظفر سے پوچھا جائے گا،ہمیں اس ایوان کی تقدس کا خیال رکھنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ سارے سینیٹرز کی بات سنیں گے تاہم پی ٹی آئی کے ارکان نے دوبارہ ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں شدید نعرے بازی کی ۔وقفہ سوالات کے دور ان وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کے حوالے کیا گیا ہے ،پی ٹی ڈی سی کے تمام اثاثہ جات کو خیبر ختونخوا حکومت کے حوالے کیا گیا ہے ،کراچی تربت پر مسافر لوڈ کے تحت پروازیں چل رہی ہیں،پروازوں کی دستیابی کے پیش نظر پروازوں کا آغاز مناسب نہیں،ساری فلائٹس کمرشل بنیادوں پر چلتی ہیں۔ اجلاس کے دور ان انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں مزید ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا گیا جسے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ اجلاس کے دور ان پروٹیکشن آف جرنلسٹ بل سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پیش کیا،بل کو مشترکہ اجلاس کیلئے ریفر کر دیا گیا۔ اجلاس کے دور ان نجکاری کمیشن آرڈیننس میں مزید ترمیم(ترمیمی بل 2025) کا بل متعلقہ کمیٹی جو بھیج دیا گیا،بل مشیر وزیر اعظم برائے نجکاری محمد علی نے پیش کیا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی ارکان کے شور شرابہ کے دوران ایوان کا اجلاس پیر شام چار بجے تک ملتوی کر دیاگیا۔
.ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی جیل سے ہی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے خواہاں ہیں: رانا ثناء اللہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت کو بانی پاکستان تحریک انصاف سے کوئی خوف نہیں، تاہم جیل میں ملاقات اور اس کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے قانون کی پابندی لازم ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ طویل ملاقاتوں کے بعد گھنٹوں پر مشتمل پریس کانفرنسیں نہ کی جائیں اور نہ ہی جلاؤ گھیراؤ یا اسلام آباد کی جانب مارچ جیسے بیانات دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص جیل میں بیٹھ کر باہر تحریک چلائے۔ ملاقات کا مقصد سیاسی شور مچانا نہیں ہونا چاہئے، عدالت نے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے دو نکات واضح کیے تھے: ملاقات ہوسکتی ہے مگر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت عوام کو بتائے گی کہ مذاکرات کے لیے ہر راستہ اختیار کیا گیا، لیکن بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو احتجاج کی کال دی تھی اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال کی طرح ممکنہ احتجاج کی تیاری کی جا رہی تھی۔
انہوں نے نواز شریف کی سابقہ بیرونِ ملک روانگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جیل توڑ کر باہر نہیں گئے تھے، انہیں اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔‘‘
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، قانون کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، تاہم سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اسی تناظر میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی طرزعمل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اتنی محبت ہے تو مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔