18اکتوبر2007 شہادت، عزم اور جمہوریت کا دن
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
18اکتوبر2007 یہ تاریخ محض کیلنڈر پر رقم ایک دن یا تاریخ ہی نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوریت کی بحالی کے لیے دی گئی قربانیوں، عوامی محبت کی مثالوں اور دہشت گردی کی خون آشام سیاہ اندھیری راتوں کے درمیان امید کے چراغ اور زندگی کی علامت بن چکی ہے۔
یہ وہ دن تھا جب دخترِ مشرق، محترمہ بینظیر بھٹو،آٹھ برس کی طویل جلاوطنی کے بعد اس مٹی کی خوشبو اور محبت کی خاطر، جمہوریت کی بحالی کے لیے جسے اْن کے والد جمہوریت کے عظیم رہنما سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے لہو سے سیراب کیا تھا، وطن واپس لوٹیں۔
اس دن کراچی کے شاہراہ فیصل پر لاکھوں لوگوں کا جمِ غفیر، امیدوں اور امنگوں کے حصول اور اپنے خوابوں کی تعبیرکے لیے اپنی عظیم رہنما کے استقبال میں امنڈ آیا تھا، لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ اسی ہجومِ عقیدت میں دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو ان کی والہانہ عقیدت کی سزا اور حصول جمہوریت کے لیے نکلنے والے جفاکش جمہوری کارکنوں کے خلاف سازشوں کا جال بْن لیا ہے، جب یہ قافلہ کارساز پہنچا تو خوفناک دھماکوں نے فضا کو لرزا دیا،خوشیوں کے نعرے چیخوں اور آہ و بکا میں بدل گئے اور180 سے زائد بے گناہ جانیں جمہوریت کی راہ میں قربان ہوگئیں، جب کہ 500 سے زیادہ معصوم افراد شدید زخمی ہوئے، یہ سانحہ کارساز صرف ایک حملہ یا دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ جمہوریت پر ایک شب خون مارا گیا تھا۔
محترمہ بینظیر بھٹو اْس رات شدید دکھی اور افسردہ تھیں مگر انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور مضبوط ارادوں اور ایک نئے عزم اور اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے سفرکو جاری و ساری رکھا، وہ جانتی تھیں کہ جس راہ کا انتخاب انھوں نے کیا ہے، وہ کانٹوں اور مشکلات سے بھری ہوئی ہے، مگر وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ جو قوم جمہوریت کے خواب دیکھتی ہے، اْسے قربانیوں کے چراغ اپنے خون سے جلانے پڑتے ہیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو ایک قابل فخر بیٹی، ایک بے مثال بہن، ایک شفیق ماں، ایک عظیم رہنما تھیں،ان کی زندگی کسی عام سیاستدان کی کہانی نہیں، بلکہ یہ تکالیف ، استقامت اور قربانیوں کی وہ لازوال کتاب ہے جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے۔ وہ اس عظیم رہنما ذوالفقار علی بھٹوکی بیٹی تھیں جس نے خود بھی قوم کو خود داری اور خود انحصاری کا سبق دیا اور اس جرم کی پاداش میں انھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
وہ ان بھائیوں کی بہن تھیں جو ظلم اور انتقام کی سیاست کا شکار ہوئے، مگر سر نہ جھکایا اور وہ اس ماں کی بیٹی تھیں، جس نے اپنی اولاد اور شوہرکی جدوجہد اور قربانیوں کو صبرکے آنسوؤں سے سینچا۔ ان کے لیے سیاست کوئی ذاتی مفاد کا میدان نہیں تھی، بلکہ ایک قومی مشن تھا۔ ان کا وژن تھا کہ عوام کے ووٹ، قوم کے وقار اور آئین کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قید، نظربندی، جلاوطنی ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد بھی ان کی زبان سے کبھی شکایت نہیں نکلی اور نہ انھوں نے آمروں اور آمریت کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ …
’’جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔‘‘
اور یہ جملہ صرف نعرہ نہیں، بلکہ اْن کی پوری زندگی کا فلسفہ اور نظریہ تھا۔عوام کی خدمت، قوم کے وقارکی بحالی اور جمہوری سیاست کی وجہِ سے مخالفین اور سازشی عناصر نے ان کی راہ میں ہمیشہ مشکلات حائل رکھیں جس کی وجہ سے محترمہ بینظیر بھٹو شہیدکے دونوں ادوارِ حکومت میں اگرچہ مشکلات کے بادل چھائے رہے، مگر وہ پھر بھی قوم کے محروم طبقات کو ساتھ لے کر چلیں۔ اْنہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے ذریعے دیہی خواتین کو روزگار، عزت اور مقصدِ زندگی دیا۔ فرسٹ وومن بینک اور وومن پولیس اسٹیشنزکا قیام اْن کے اس یقین کی علامت تھا کہ عورت جب بااختیار ہوگی تو ہی معاشرہ ترقی کرے گا۔ وہ جلسوں میں عوام کے قریب جاتی تھیں، بچوں کو گود میں اٹھاتی تھیں، اور غریبوں کے آنسو پونچھتی تھیں۔ ان کے لیے سیاست دل جیتنے اور عوام سے ملنے کا نام تھا، بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر طویل سیکیورٹی حصار اور پروٹوکول میں گزرنے کا نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت کے ساتھ ساتھ بینظیر بھٹو صرف پاکستان ہی کی نہیں، بلکہ پوری مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ ہارورڈ اور آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ، نرم گفتار مگر فولادی ارادوں والی اس رہنما نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان عورت قیادت، صلاحیت، سیاست ، فراست، وکالت میں مردوں سے پیچھے نہیں، بلکہ ہر محاذ پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ لڑ سکتی ہے، انھوں نے مغرب سے تعلقات کو تصادم نہیں بلکہ تعاون کی بنیاد پر استوارکیا۔ ان کے نزدیک ترقی کا راستہ امن، تعلیم اور عالمی ہم آہنگی سے گزرتا تھا۔بینظیر بھٹو نے جس طرح اپنی زندگی کے آخری برسوں میں میثاقِ جمہوریت کا اعلان کیا، وہ ان کی بالغ نظری اور قومی سوچ کی علامت تھا۔
میاں محمد نواز شریف کے ساتھ یہ معاہدہ محض دوجماعتوں کا اتحاد نہیں تھا، بلکہ جمہوریت کی حفاظت کا اجتماعی عہد تھا۔ یہ میثاق اس بات کا وعدہ تھا کہ آیندہ کوئی آمر، عوام کی رائے اور اس کے چناؤ پر شب خون نہیں مار سکے گا۔18 اکتوبر کے خونچکاں منظر کے باوجود، وہ اسی وعدے کی تکمیل کے لیے میدانِ سیاست میں واپس آئیں لیکن پھر اسی سال 27 دسمبر 2007 کو اسی مستقل مزاجی اور پاکستان اور مظلوم عوام کی حمایت کے جرم میں، جب وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنی تقریرکے بعد عوام کی محبت کے جذبات میں سرشار تھیں، دشمن نے ایک بار پھر وارکیا۔ اس بار وہ ہم سے جدا ہوگئیں اور شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئیں، دشمن ہم سے انھیں جدا تو کر گیا لیکن وہ قوم کو وہ نظریہ، فکر، فراست ، مقصد حیات اور جمہوری نظریہ دے گئیں جو رہتی دنیا تک مشعل راہ رہے گا۔
آسما ن تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محترمہ بینظیر بھٹو جمہوریت کی انھوں نے عوام کی کے لیے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز