یمن میں حوثی باغیوں نے جمعرات کو باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ان کے چیف آف اسٹاف محمد عبد الکریم الغماری اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہو گئے ہیں۔ تاہم باغیوں نے حملے کا براہِ راست الزام اسرائیل پر عائد نہیں کیا، مگر واضح کیا کہ ان کا تصادم اسرائیل کے ساتھ جاری ہے اور انہیں ان کے کیے گئے جرائم کی سزا ملے گی۔
حوثیوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاکہ’’محمد عبد الکریم الغماری‘‘ اپنے عہدے کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے۔ اسرائیل کے ساتھ ہمارا تصادم ختم نہیں ہوا، انہیں جرائم کی سزا ضرور ملے گی۔ الغمار یمنی باغیوں کے’’جہاد آفس‘‘ کے رکن بھی تھے، جو فوجی آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے۔ حوثی رہنما عبدالملک الحوثی اس آفس کی سربراہی کرتے ہیں۔ غیر ملکی خبروں کے مطابق، اگست میں اسرائیلی فضائی حملوں میں حوثی وزیراعظم اور دیگر وزرا شہید ہوئے تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قریب قریب اعلیٰ حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ اسرائیلی حملے کا ہدف الغماری، وزیر دفاع اور متعدد دیگر اہم رہنما تھے۔ اگرچہ ابھی کوئی باضابطہ تذکرہ نہیں آیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کہاں سے ہوئی، مگر حوثیوں نے اس پیش رفت کو غزہ کے پسِ منظر اور اسرائیلی اقدامات کے تناظر میں دیکھا ہے۔
پچھلے دنوں حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر نظر رکھیں گے اور اگر اسرائیل اس کی خلاف ورزی کرے تو وہ دوبارہ کارروائیاں شروع کریں گے۔ اب الغماری کی شہادت ایسی پیش رفت ہے جو اس کشیدہ خطے کی موجودہ توازن اور تنازعات میں نئی شدت لانے کا امکان رکھتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان