حماس نے تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو دوبارہ جنگ ہوگی؛ اسرائیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
غزہ جنگ بندی کو ابھی چند روز ہی گزرے ہیں لیکن جارحیت پسند اسرائیل ایک بار پھر دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کھلی دھمکی دی ہے کہ غزہ میں جنگ ایک بار پھر شروع ہوسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں اور تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ حماس اب بھی 19 اسرائیلی مغویوں کی لاشوں کو روکے ہوئے ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اسرائیل کے پاس دوبارہ جنگ شروع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ دستیاب تمام 9 لاشیں حوالے کردی ہیں لیکن بقیہ تک رسائی تک تباہ شدہ علاقوں اور ملبے کے ڈھیر کے باعث فی الحال ممکن نہیں ہو پارہی ہے۔
حماس کا مزید کہنا تھا کہ ٹنوں ملبے تلے دبی لاشیں تلاش کرنے کے لیے خصوصی آلات اور وقت درکار ہے۔
حماس کا اصرار ہے کہ جنگ بندی کے دوران تلاش اور ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ لاشیں جلد نکالی جا سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔