حماس نے شرائط پر عمل نہیں کیا تو اسرائیل کوغزہ پردوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دینے پرغورکرینگے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کریں گے۔
امریکی نشریاتی سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ اسرائیلی فورسز جیسے ہی میں کہوں گا، دوبارہ سڑکوں پر آ جائیں گی۔ جو کچھ حماس کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بہت جلد ٹھیک کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی اس شرط پر عمل نہیں کر رہی جس کے تحت اسے تمام مغویوں ، زندہ اور مردہ ، کو واپس کرنا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، حماس کی جانب سے لاشوں کی کم تعداد کی واپسی کے باعث غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کو کم یا مؤخر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے نکتہ نمبر 4 میں کہا گیا تھا:’ اسرائیل کی جانب سے معاہدہ عوامی طور پر قبول کیے جانے کے 72 گھنٹے کے اندر، تمام مغویوں — زندہ اور مردہ — کو واپس کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔