امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کیے جانے کے بعد کہ بھارت نے روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے، کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی ہے۔

راہول گاندھی نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم مودی، ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی نے ’امریکی صدر کو یہ فیصلہ کرنے اور اعلان کرنے کی اجازت دے دی کہ بھارت روس سے تیل نہیں خریدے گا۔‘

راہول گاندھی نے مزید کہا کہ وزیراعظم مودی ’بار بار امریکی توہین کے باوجود مبارکباد کے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔‘

PM Modi is frightened of Trump.

1. Allows Trump to decide and announce that India will not buy Russian oil.
2. Keeps sending congratulatory messages despite repeated snubs.
3. Canceled the Finance Minister’s visit to America.
4. Skipped Sharm el-Sheikh.
5. Doesn’t contradict him…

— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 16, 2025

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت اب روس سے تیل نہیں خریدے گا۔

یہ بھی پڑھیے مودی نے روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی: صدر ٹرمپ کا انکشاف

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے، اور آج مودی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ اب روس سے تیل نہیں خریدیں گے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کا اگلا ہدف ’چین کو بھی یہی کام کرنے پر آمادہ کرنا‘ ہے۔

بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری رواں سال اگست سے خبروں میں ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا۔ اس اضافے کے بعد بھارت پر کل 50 فیصد درآمدی محصولات لاگو ہو گئے۔

مزید پڑھیں: مودی کو کیسے ڈرا، دھما کر امن قائم کرایا، ٹرمپ نے ساری کہانی تفصیل سے بتادی

اضافی محصولات کے جواب میں وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ وہ ’کسانوں کے روزگار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے اس کے لیے بھاری قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔‘

مودی کا 56 انچ کا سینہ سکڑ گیا، کانگریس

راہول گاندھی کے بیان کے بعد، کانگریس کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے بھی ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی کا ’56 انچ کا سینہ‘ سکڑ گیا ہے۔
انہوں نے 2019 میں وزیرِ داخلہ امت شاہ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’مودی وہ شخص ہیں جن کا 56 انچ کا سینہ ہے، کیونکہ انہوں نے پاکستان میں دہشتگرد ٹھکانے تباہ کیے۔‘

भारतीय समयानुसार 10 मई 2025 की शाम 5:37 बजे, अमेरिकी विदेश मंत्री मार्को रुबियो ने सबसे पहले यह घोषणा की कि भारत ने ऑपरेशन सिंदूर रोक दिया है।

इसके बाद राष्ट्रपति डोनाल्ड ट्रंप पाँच अलग-अलग देशों में 51 बार दावा कर चुके हैं कि उन्होंने टैरिफ और व्यापार को दबाव के हथियार के रूप… https://t.co/I35JZzv9g6

— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 16, 2025

جئے رام رمیش نے لکھا ’10 مئی 2025 کو شام 5 بجکر 37 منٹ پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پہلے شخص تھے جنہوں نے اعلان کیا کہ بھارت نے ’آپریشن سندور‘ روک دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اب تک 5 ممالک میں 51 بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کی مداخلت سے ہی ’آپریشن سندور‘ رکا۔

رمیش کے مطابق، ٹرمپ کے تازہ ترین بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وزیراعظم مودی نے اہم قومی فیصلے امریکا کے سپرد کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈونلڈ ٹرمپ راہول گاندھی نریندر مودی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ راہول گاندھی کہ وزیراعظم مودی راہول گاندھی روس سے تیل کہ بھارت انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم