وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس؛ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں افغان طالبان، فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیزیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں کابینہ کو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔
وزیر اعظم اپنے حالیہ دورہ مصر اور شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق ارکان کو آگاہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے فیصلے بھی توثیق کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ملکی معیشت درست سمت گامزن ہے،وزیرخزانہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی معاشی صورتحال اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مقامی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی جانب مثبت اشارہ ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی معیشت درست سمت گامزن ہے گزشتہ چار ماہ کے دوران مختلف معاشی شعبوں میں قابل ذکر بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 9 فیصد اضافہ ہوا، آٹو سیکٹر میں 4 فیصد بہتری آئی، جبکہ موبائل فونز کی پروڈکشن اور سیلز میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کا مجموعی اثر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ پر پڑا ہے، جو سالِ رواں کی پہلی سہ ماہی میں 4.1 فیصد تک بڑھ چکی ہے، جبکہ ستمبر میں یہی شرح 2 فیصد تھی۔ وزیر خزانہ کے مطابق ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر صنعتی شعبے میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ تمام اشارے بہت مثبت ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ملکی معاشی بحالی کا عمل مضبوط ہو رہا ہے۔ اب ہماری بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ اس ترقی کو کیسے برقرار رکھا جائے اور اسے پائیدار بنایا جائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ گولڈ رش کی دوڑ میں جانے کے بجائے حکومت کا ہدف معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے، اور اسی حکمت عملی کے تحت بڑے منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ یو ایس Aegis منصوبہ دوبارہ فعال ہو چکا ہے اور اس کا فنانشل کلوز بھی مکمل ہو گیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت ہوگی۔
ان کے مطابق یہ ’’گیم چینجر‘‘ منصوبہ ہے جس کے ذریعے پہلے سال میں 2.9 بلین ڈالر کی پروڈکشن متوقع ہے۔
وزیر خزانہ نے ترسیلات زر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ رواں سال اس میں مزید نمایاں بہتری کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں کم از کم 3 بلین ڈالر کا اضافی فرق کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کا سبب بنے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدات پر بھی باریک بینی سے نظر رکھی ہوئی ہے۔ ’’اگر ٹیرف ریجیم کے باعث خام مال اور انٹرمیڈیٹ گڈز کی درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ معیشت کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ اس سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر ضروری پروٹیکشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملکی صنعتیں عالمی مسابقت کے مطابق خود کو مستحکم کر سکیں۔