شہیدِ مِلّت، نوابزادہ لیاقت علی خان کی 74 ویں برسی آج منائی جارہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریک پاکستان کے نامور رہنما کا شمار قائد اعظم کے قریبی رفقا اور جدوجہد آزادی کے مرکزی رہنماؤں میں کیا جاتا ہے، لیاقت علی خان کو انکی سیاسی بصیرت اور اصول پسندی کے باعث قائد ملت کا خطاب بھی دیا گیا،،16 اکتوبر 1951 کو ایک جلسے کے دوران قائدِ اعظم کے معتمد اور نہایت قریبی ساتھی، قوم کے عظیم راہنما، محسن اور ملک کے پہلے وزیرِاعظم کو شہید کردیا گیاتھا ،،، شہیدِ ملّت کی زبان پر جاری ہونے والے آخری الفاظ تھے ’’خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ قوم کے اس عظیم رہنما کو راولپنڈی کے جس کمپنی باغ میں شہید کیا گیا، بعد میں اسے ’’لیاقت باغ‘‘ کا نام دیا گیا-
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے ،نائب وزیر اعظم
کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی
افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میں نے کابل میں واضح کردیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے ۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے ، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی۔اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی، ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا۔ان کا کہنا تھا کہ ای یو.کے ساتھ ہمارے تعلقات کے تمام شعبوں تجارت، اقتصادی امور، جی ایس پی پلس، افغانستان، سیکیورٹی، بھارت اور دیگر معاملات ہر بات چیت کی، ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی، پہلگام واقعہ اور پاک بھارت جنگ کے بعد کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ، یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے ‘۔