یوکرینی صدر کے قریبی ساتھی اور ملک کے غیر اعلان شدہ نائب صدر مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے بااعتماد چیف آف اسٹاف اینڈری یرماک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یرماک یوکرین میں صدر زیلنسکی کے بعد سب سے بااثر شخصیت تھے اور 2019 سے زیلنسکی کے ساتھ ہیں۔
یہاں تک کہ انھیں ملک کا غیر اعلان شدہ نائب صدر بھی کہا جاتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یرماک صدر زیلنسکی کے اتنے قریب رہے کہ ان کے بغیر صدر کے فیصلوں کا تصور ممکن نہیں تھا۔
ان کا استعفیٰ اُس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کی انسدادِ بدعنوانی ایجنسیوں نے جمعے کی صبح ان کے گھر پر اینٹی کرپشن پولیس نے چھاپہ مارا تھا۔
یوکرین کے نیشنل اینٹی کرپشن بیورو (NABU) اور اسپیشلائزڈ اینٹی کرپشن پراسیکیوٹر آفس (SAPO) نے بتایا کہ چھاپہ بڑے مالیاتی کرپشن کیس سے منسلک ہے جس کی تفصیلات فی الحال خفیہ رکھی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ وہی وسیع تحقیق ہے جس میں حال ہی میں سرکاری جوہری توانائی کمپنی اینرگوآٹوم میں 100 ملین ڈالر کے کک بیک اسکینڈل کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں۔
جس کے مرکزی ملزم کے طور پر زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار تیمور میندچ کا نام سامنے آیا ہے۔ اور وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔
تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں نے بتایا کہ کرپشن کیس میں دو اعلیٰ وزرا بھی پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں، جبکہ مرکزی ملزم کے خلاف کارروائی عدم موجودگی میں چلائی جائے گی۔
یرماک گزشتہ چار برس سے جاری روس یوکرین جنگ کے دوران صدر زیلنسکی کے سب سے قریبی ساتھی رہے ہیں اور امریکا کی جانب سے پیش کردہ نئے امن منصوبے پر مذاکرات کی قیادت بھی کر رہے تھے۔
گھر پر چھاپے کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ وہ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ اہلکار گھر کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں اور وکلا بھی موجود ہیں۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ صدر دفتر کو ازسر نو منظم کر رہے ہیں اور جلد ہی نئے چیف آف اسٹاف کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدر زیلنسکی زیلنسکی کے رہے ہیں
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :