بھارت جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، کے ایل راہول
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بھارتی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان کے ایل راہول نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں تاریخی شکست کو بھول کر ٹیم اب ایک روزہ میچز میں نئی شروعات کرے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جنوبی افریقہ نے 26 سال بعد بھارت کو ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز میں شکست دی، پہلے ٹیسٹ میں 30 رنز سے اور دوسرے ٹیسٹ میں 48 رنز سے بھارت کو ہرا کر۔ یہ بھارت کی گزشتہ سات ہوم ٹیسٹ میچز میں پانچویں شکست تھی، جس میں نیوزی لینڈ نے بھی بھارت کو وائٹ واش کیا تھا۔
سیریز کے دوران بھارت کے مستقل کپتان شبمن گل انجری کی وجہ سے باہر ہو گئے، اور ان کی جگہ وکٹ کیپر بیٹر کے ایل راہول نے قیادت سنبھالی۔ راہول نے رانچی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ٹیم کا فوکس جیت پر ہے اور گزشتہ ناکامی کو بھول کر ہر میچ پر توجہ مرکوز کرے گی۔
راہول نے مزید کہا، “ہم کل کے میچ پر فوکس کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ کس طرح اجتماعی کارکردگی پیش کی جا سکتی ہے جو ہمیں کامیابی دلائے، پھر دوسرے وینیو پر جا کر سیریز جیتنے کی کوشش کریں گے۔
ان کے مطابق، سابق کپتان ویرات کوہلی اور روہت شرما کی واپسی ٹیم میں تجربے اور گہرائی کا اضافہ کرے گی۔ “سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی ڈریسنگ روم کو اعتماد دیتی ہے اور صرف ان کی موجودگی بھی ٹیم کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
بھارت کے باولنگ کوچ مورنے مورکل نے کہا کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں منتقلی ٹیم میں نئی توانائی لے آئے گی اور کھلاڑی بہتر انداز میں کھیل کے دباؤ کو سنبھال سکیں گے۔
بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ون ڈے میچ 6 دسمبر تک کھیلے جائیں گے، جس کے بعد دونوں ٹیمیں پانچ ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں آمنے سامنے ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ راہول نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔