اسرائیل نے 90 شہدا کے جسد خاکی واپس کردیے، سروں پر گولیوں اور جسم پر تشدد کے نشانات موجود
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
فلسطینی ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسرائیلی حراست میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کو تشدد کے بعد سروں پر گولیاں ماری گئیں ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع ناصر اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسرائیل سے غزہ پہنچنے والی 90 فلسطینی شہدا کی لاشوں کے حوالے سے انکشاف کیا کہ بیشتر شہدا کے ماتھے پر گولیوں اور بعض کے گلے پر پھانسی کے نشانات موجود ہیں، کئی کے ہاتھ پر ہتھکڑیوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر زخموں کے نشانات ملے ہیں۔
عالمی ریڈ کراس سوسائٹی کی سہولت کاری میں حماس کی جانب سے کچھ یرغمالیوں کی لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کیا گیا ہے، جو جنگ کے دنوں میں غزہ میں مارے گئے تھے، جبکہ اسرائیل نے 2 گروپوں میں فلسطینی شہدا کے جسدِ خاکی واپس کیے جس میں ہر ایک میں 45 شہدا شامل تھے۔
خان یونس کے ناصر اسپتال کے ڈاکٹروں نے فلسطینیوں شہدا کے جسد خاکی وصول کیے، ان ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان لاشوں پر تشدد کے بعد قتل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں، اس کے علاوہ بعض لاشیں ناقابل شناخت بھی ہیں۔
ناصر اسپتال کے شعبہ اطفال ڈاکٹر احمد الفارع نے بتایا کہ تمام شہدا کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، سب ہی کو شہید کیے جانے سے پہلے باندھا گیا تھا اور پھر سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں۔
انہون نے یہ بھی بتایا کہ بعض شہدا کے جسد خاکی کی جلد پر مختلف رنگوں کے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں قتل کرنے پر پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ بعض کو بعداز شہادت زیادتی کانشانہ بھی بنایا گیا۔
ڈاکٹر احمد الفارع نے مزید بتایا کہ ملنے والی بہت سی لاشوں کی شناخت اس وجہ سے ممکن نہیں کہ غزہ میں شدید بمباری کی وجہ سے ہمارا طبی نظام تباہ ہوچکا ہے اور اس وقت ہمارے پاس ڈی این اے کا تجزیہ کرنے کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شہدا کے جسد ڈاکٹروں نے کے نشانات بتایا کہ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔