بھارت: شادی تقریب میں اسٹیج گر گیا، متعدد بی جے پی رہنما زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
بھارت(ویب ڈیسک) ریاست اتر پردیش کے ضلع بلیا میں شادی کی تقریب کے دوران اسٹیج اچانک گرنے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے متعدد رہنما زخمی ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع بلیا میں ایک شادی کی تقریب اس وقت حادثے میں بدل گئی جب اسٹیج اچانک گر گیا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیاسی رہنما نو بیاہتا جوڑے کو مبارک باد دینے اور تصاویر بنوانے کے لیے اسٹیج پر موجود تھے۔
یہ واقعہ بی جے پی کے مقامی رہنما ابھیشیک سنگھ انجینئر کے بھائی کے ولیمے کی تقریب میں پیش آیا۔اس موقع پر بی جے پی کے رہنما سنجے مشرا و دیگر لوگ بھی موجود تھے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی کی تقریب کے دوران اسٹیج پر موجود رہنما مسکراتے ہوئے جوڑے کو مبارکباد دے رہے تھے کہ چند ہی لمحوں میں پورا اسٹیج نیچے دھنس گیا اور اس پر موجود تمام افراد زمین پر جا گرے۔ اس دوران مہمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے دوڑ پڑے۔واقعے کے فوراً بعد ماحول میں گھبراہٹ اور بے چینی دیکھنے میں آئی، جبکہ متعدد مہمانوں نے پیچھے ہٹ کر خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت