data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شمالی تھائی لینڈ کے صوبے پھتسانُلوک میں ایک غیرمعمولی واقعہ نے اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا جب 65 سالہ چنتھیروت نامی خاتون، جنہیں پہلے ہی مردہ سمجھ کر دفنانے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں، تابوت میں جاگ اُٹھیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا جب چنتھیروت کو گھر پر بے ہوش پایا گیا، اہلِ خانہ نے انہیں حرکت اور سانس کے بغیر دیکھا، جس پر یہ گمان کرلیا کہ وہ انتقال کر چکی ہیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق اگلے دن، مالی مشکلات کے شکار خاندان کے لیے مفت تدفین کی سہولت فراہم کرنے والے مقامی مندر میں ان کی آخری رسومات کے انتظامات کیے گئے۔ سفید تابوت میں رکھی گئی چنتھیروت کو چار گھنٹے کے سفر کے بعد مندر پہنچایا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اصل حیرت انگیز لمحہ اس وقت آیا جب مندر کے ایک کارکن تھمّانون نے تابوت کو ٹرک سے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اندر سے دھیمی دستک اور مدھم آواز نے سب کو چونکا دیا۔

مندر کے کارکن تھمّانون نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب میں نے کپڑا ہٹایا تو میری ہوش اُڑ گئے، خاتون حرکت کر رہی تھیں، آہستہ سانس لے رہی تھیں، سر ہلا رہی تھیں، مگر بول نہیں پا رہی تھیں۔

فوراً ایمبولینس بلائی گئی اور چنتھیروت کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں مندر کی انتظامیہ نے علاج کے اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری قبول کی۔

خاتون کے 57 سالہ بھائی مونگکول نے واقعے کو معجزے کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں شاک میں تھا، حیران بھی اور خوش بھی کہ میری بہن زندہ ہیں… یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔

اہلِ خانہ کے مطابق چنتھیروت پچھلے دو سال سے بیماری کی وجہ سے بستر پر تھیں، جس کی وجہ سے سانس اور حرکت محسوس نہ ہونے پر سب نے سمجھا کہ وہ دنیا چھوڑ چکی ہیں۔

یہ غیر معمولی واقعہ نہ صرف اہلِ خانہ کے لیے حیرت انگیز تھا بلکہ اس نے مقامی کمیونٹی کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ تخلیق کیا جو زندگی اور موت کے باریک فرق کی یاد دلاتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہی تھیں کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد