سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 74 شکایات میں سے 70 شکایات کو ناکافی شواہد یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے، جب کہ 3 شکایات پر مزید کارروائی کی منظوری دی گئی ہے۔ ایک شکایت پر کارروائی عارضی طور پر موخر کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے کونسل کے اجلاسوں میں کیے گئے، جن میں سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر شامل تھے۔
اعلامیے کے مطابق، دو علیحدہ اجلاسوں میں شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پہلے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت 67 شکایات زیر غور آئیں، جن میں سے 65 کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا، ایک پر کارروائی موخر کی گئی، جبکہ ایک شکایت کو اکثریتی رائے سے مزید کارروائی کے لیے منظور کیا گیا۔
دوسرے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدم دستیابی کے باعث پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو کونسل میں شامل کیا گیا۔ اس اجلاس میں 7 شکایات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 2 شکایات پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور باقی 5 شکایات کو داخل دفتر کر دیا گیا۔
کونسل کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 155 شکایات پر غور کیا جا چکا ہے، جن میں سے 74 پر فیصلے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 87 شکایات ابتدائی جانچ کے مراحل میں ہیں۔
کونسل نے اجلاس کے دوران ججز کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کی بھی منظوری دے دی، جس کا مقصد عدالتی احتساب کے عمل کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مزید کارروائی چیف جسٹس

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا