سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف 70 شکایات مسترد، 3 پر مزید کارروائی کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 74 شکایات میں سے 70 شکایات کو ناکافی شواہد یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے، جب کہ 3 شکایات پر مزید کارروائی کی منظوری دی گئی ہے۔ ایک شکایت پر کارروائی عارضی طور پر موخر کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے کونسل کے اجلاسوں میں کیے گئے، جن میں سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر شامل تھے۔
اعلامیے کے مطابق، دو علیحدہ اجلاسوں میں شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پہلے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت 67 شکایات زیر غور آئیں، جن میں سے 65 کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا، ایک پر کارروائی موخر کی گئی، جبکہ ایک شکایت کو اکثریتی رائے سے مزید کارروائی کے لیے منظور کیا گیا۔
دوسرے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدم دستیابی کے باعث پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو کونسل میں شامل کیا گیا۔ اس اجلاس میں 7 شکایات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 2 شکایات پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور باقی 5 شکایات کو داخل دفتر کر دیا گیا۔
کونسل کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 155 شکایات پر غور کیا جا چکا ہے، جن میں سے 74 پر فیصلے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 87 شکایات ابتدائی جانچ کے مراحل میں ہیں۔
کونسل نے اجلاس کے دوران ججز کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کی بھی منظوری دے دی، جس کا مقصد عدالتی احتساب کے عمل کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مزید کارروائی چیف جسٹس
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔