امید ہے کہ سعودی عرب، ابراہیم اکارڈ کا حصہ بن جائیگا، ڈونلڈ ٹرامپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جب ریاض، اس عمل کا حصہ ہوگا، تو بہت سے ممالک خود بخود ابراہیم معاہدے میں شامل ہو جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرامپ" نے کہا کہ انہیں ابراہیم اکارڈ میں مزید ممالک کی شمولیت کی توقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب بھی اس معاہدے کا جلد حصہ بنے گا اور جب ریاض اس عمل کا حصہ ہوگا، تو بہت سے ممالک خود بخود ابراہیم معاہدے میں شامل ہو جائیں گے۔ امریکی صدر نے ان خیالات کا اظہار فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دنیا جلد ہی ابراہیم اکارڈ میں توسیع کا مشاہدہ کرے گی۔ ڈونلڈ ٹرامپ نے کہا کہ گزشتہ بدھ، میری اُن ممالک کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی جنہوں نے ابراہیم اکارڈ میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس لئے میرے خیال میں جلد ہی سب اس میں شامل ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت منظر عام پر آئے جب سعودی عرب اور اسلامی دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک نے یہ شرط عائد کی کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اُسی صورت ممکن ہے جب 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے۔ تاہم اسرائیل کبھی بھی اس بات پر متفق نہیں ہو گا۔
یاد رہے کہ ابراہیم اکارڈ پہلی بار 2020ء میں اس وقت معرض وجود میں آیا جب ڈونلڈ ٹرامپ نے اپنی پہلی مدت صدارت میں تل ابیب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے عملی اقدام اٹھاتے ہوئے، اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے معاہدے کروائے تھے۔ اس اقدام نے عرب دنیا میں ایک دیرینہ روایت کو توڑا جس کے بعد مراکش اور سوڈان بھی اس عمل میں شامل ہوئے۔ قابل غور بات ہے کہ گزشتہ سوموار کو غزہ پٹی کے مستقبل کے جائزے کے لئے مصر میں مسلم اور یورپی ممالک کے رہنماؤں کو جمع کرنے والے ڈونلڈ ٹرامپ نے، غزہ کی جنگ ختم کرنے کے اپنے منصوبے کو خطے میں وسیع تر امن کی شروعات قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیل کا بہترین دوست قرار دینے والے نتین یاہو نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ خطے کے عرب ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرامپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے اب تک یہ کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ابراہیم اکارڈ ڈونلڈ ٹرامپ میں شامل ہو امریکی صدر کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔