حماس کا جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ثالث ممالک سے کردار جاری رکھنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: حماس نے مصر، قطر اور ترکی سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بقیہ نکات پر عملدرآمد کے عمل کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے ان تینوں برادر ممالک کے مخلصانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی دو سالہ کوششوں، مذاکرات کی میزبانی، اختلافات ختم کرنے اور رکاوٹیں دور کرنے کی کاوشوں کے نتیجے میں غزہ پر مسلط جنونی جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔
حماس کے ترجمان نے کہاکہ ثالث ممالک اب بھی معاہدے کے اہم نکات، خاص طور پر انسانی امداد کی فراہمی، رفح بارڈر کو دو طرفہ آمد و رفت کے لیے کھولنے، اور گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری تعمیرِ نو سے متعلق اقدامات کی نگرانی جاری رکھیں۔
حماس نے زور دیا کہ غزہ کی انتظامیہ کے لیے متفقہ آزاد شخصیات پر مشتمل کمیونٹی سپورٹ کمیٹی کی تشکیل فوری طور پر مکمل کی جائے تاکہ وہ اپنے فرائض انجام دینا شروع کرے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے عمل کو حتمی شکل دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کے احتساب کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں اور عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کی قیادت کے بائیکاٹ و تنہائی کے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔
یاد رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو زندہ جبکہ 10 کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کیں، جس کے بدلے میں تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا ۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک تقریباً 68 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ کا بیشتر علاقہ رہائش کے قابل نہیں رہا۔
خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کررہا ہے ، عالمی ادارے بھی صیہونی فورسز کی جانب سے کی گئی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔