Jasarat News:
2026-07-24@05:20:14 GMT

خوئے بد را بہانہ ہائے بسیار!

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251018-03-2

 

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے 13 اکتوبر کو مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہ کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جس امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کیے تھے، وہ مشرقِ وسطیٰ کے حبس زدہ جنگی ماحول میں خوشگوار ہوا کو جھونکا محسوس ہورہا تھا، مگر معاہدے کی شقوں میں موجود ابہام اور حل طلب کئی پیچیدہ مسائل کی موجودگی میں خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ یہ امن معاہدہ تادیر قائم نہیں رہ سکے گا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ خدشات محض خدشات نہیں تھے، اس امر کے ٹھوس شواہد موجود تھے کہ اسرائیل کسی طور اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، خود اس کی پوری تاریخ اس حقیقت پر دال ہے کہ اس نے کبھی بھی معاہدہ پر عمل نہیں کیا، یہی خدشہ خود حماس کو بھی تھا اسی لیے اس نے علاقائی اور بین الاقوامی ضمانت طلب کی تھی۔ امن معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے بعد پیش آمدہ حالات و واقعات، اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور امریکی صدر کا لب ولہجہ اب ان خدشات کو تقویت فراہم کر رہے ہیں۔ امن معاہدے میں یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل جسے حماس کو بروئے کار لانا تھا وہ تو بحسن و خوبی انجام پا گیا مگر نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے نہیں رک سکے، معاہدے کے دوسرے ہی دن اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے 9 فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق معاہدے کے دو دنوں کے اندر جنگ بندی کے باوجود 23 فلسطینی شہید کیے گئے، 16 اکتوبرکو 3 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، مجموعی طور پر جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 40 فلسطینی شہید کیے جاچکے ہیں۔ اس صورتحال کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حماس نے بجا طور پر عالمی ضامنوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو تمام شرائط کا پابند بنائیں اور کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی کو روکنے کے لیے عملی کردار ادا کریں، حماس کا کہنا ہے کہ محض معاہدہ کافی نہیں بلکہ اس پر حقیقی اور مکمل عملدرآمد ہی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا نوٹس لینے کے بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو غزہ میں گھس کر حماس کا خاتمہ کریں، اس سے قبل امریکی صدر دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر حماس جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دے دیں گے۔ سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس نے اب تک 28 سے زیادہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں۔ صدر ٹرمپ نے حماس کو معاہدے کی پاسداری کا پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جیسے ہی میں کہوں گا، اسرائیلی فوج دوبارہ غزہ کی گلیوں اور سڑکوں پر ہوگی اور اگر اسرائیل چاہے تو حماس کو اچھی طرح سبق سکھا سکتا ہے۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر غیرمسلح ہوجائے، انہوں نے زور دیا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، بلاتاخیر غیر مسلح ہو جائے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی کھلی دھمکی دی ہے کہ غزہ میں جنگ ایک بار پھر شروع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں اور تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس اب بھی 19 اسرائیلی مغویوں کی لاشوں کو روکے ہوئے ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دھمکی آمیز یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں کہ جب شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی عمل شروع کرنے پر زور دیا تھا اور اس جنگ بندی کے معاہدے کو ابھی چار دن بھی نہیں گزرے تھے۔ امریکی صدر اور اسرائیلی رہنماء کا سارا زور ان یرغمالیوں کی لاشوں کی بازیابی پر ہے جو خود اسرائیلی بمباری کی وجہ سے سرنگوں میں دب کر مر گئے، جس پر حماس کا کہنا ہے کہ کچھ لاشیں تباہ شدہ سرنگوں میں دفن ہیں جبکہ متعدد لاشیں اب بھی ملنے تلے دبی ہوئی ہیں، یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے میں وقت لگ سکتا ہے، حماس کا کہنا ہے کہ غزہ امن معاہدے کے تحت جو وعدے کیے اس پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہیں، ان اسرائیلی مغویوں کی لاشیں حوالے کی ہیں جنہیں تلاش کر سکتے تھے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ مگر امریکی صدر، امریکی سینٹرل کمانڈ، اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع سب دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کو جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہلاک ہونے والے مغویوں کی لاشیں واپس کرنا ہوں گی۔ مذکورہ صورتحال سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل محض یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنانے کے لیے جنگ بندی پر آمادہ ہوئے کیونکہ گزشتہ دو سال میں جان توڑ کوششوں اور بے پناہ عسکری قوت استعمال کرنے کے باوجود وہ کسی ایک بھی زندہ یا مردہ یرغمالی کو رہا نہیں کراسکے، حالانکہ اس پورے عرصے میں امریکی، اسرائیلی، فرنسیسی، جرمنی اور برطانوی جاسوس طیارے پورے غزہ کی فضاؤں میں گشت کرتے رہے، اب جب کہ زندہ تمام یرغمالی رہا ہوچکے ہیں تو سب نے اپنا لب ولہجہ بدل لیا ہے اور ایک بار پر دھمکیوں کا سہارا لیا جارہا ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں غزہ میں گھس کر حماس کا خاتمہ کریں گے، سوال یہ ہے کہ دو سال تک وہ غزہ میں کیا کرتے رہے ہیں؟ پورے غزہ کو تاراج کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے باجود نہ یرغمالی رہاکرائے جاسکے اور نہ ہی حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکا۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور اگر ایسا نہیں ہوا تھا بقول صدر ٹرمپ کے: جیسے ہی میں کہوں گا، اسرائیلی فوج دوبارہ غزہ کی گلیوں اور سڑکوں پر ہوگی اور اگر اسرائیل چاہے تو حماس کو اچھی طرح سبق سکھا سکتا ہے۔ حماس نے اپنے عزم، ہمت، استقامت،جرأت اور بالغ نظری سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ طاقت کے زور پر انہیں زیر نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ وہ دھمکیوں میں آنے والے نہیں، حماس نے واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی نگرانی میں غیر مسلح ہونے کے کسی نکتے پر غور نہیں کیا جائے گا، نہ ہی غزہ کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے کو قبول کیا جاسکتا ہے، غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل عبوری انتظامیہ کے سپرد ہونا چاہیے، وہ اپنے وعدوں پر قائم ہیں، لیکن اپنی قوم کی آزادی، خودمختاری اور حق ِ خودارادیت سے کسی طور پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں گوکہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا ہے مگراس پر خدشات کے بادل ہنوز منڈلا رہے ہیں، یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی، امریکا اور اس معاہدے کے ثالثوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ معاہدے کی عدم پاسداری پر اسرائیل سے جوابدہی کا میکانزم بنائے بغیر خطے میں طویل المدتی قیامِ امن کو خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یرغمالیوں کی بین الاقوامی کا کہنا ہے کہ کی خلاف ورزی جنگ بندی کے امن معاہدے امریکی صدر معاہدے کی معاہدے کے کی لاشیں کہ حماس سکتا ہے حماس کا حماس کو رہے ہیں اور اس غزہ کی ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل