اے آئی ایپلی کیشنز پر نئی رپورٹ میں حیران کن انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیزی سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور اب ایک نئی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی، کلاوڈ اور گوگل جیمینائی جیسے معروف اے آئی پلیٹ فارمز کے مجموعی صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ انکشاف ڈیجیٹل 2026 رپورٹ میں کیا گیا، جس کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی محض شوقیہ یا ابتدائی استعمال کنندگان تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ ماس مارکیٹ (عوامی سطح) پر پھیل چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تیز رفتار اپنانے کے نتیجے میں انٹرنیٹ کے استعمال کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 700 صفحات پر مشتمل اس جامع تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روایتی سرچ انجنز کے استعمال میں کمی پیدا کر دی ہے، کیونکہ صارفین اب اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے براہِ راست اے آئی چیٹ ایپس کا سہارا لے رہے ہیں۔
ڈیٹا اینالسٹ سائمن کیمپ کے مطابق، اے آئی پلیٹ فارمز صارفین کو معلومات حاصل کرنے کا تیز، جامع اور شخصی (personalized) ذریعہ فراہم کر رہے ہیں، جو سرچ انجنز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور وسیع نوعیت کا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل قریب میں انٹرنیٹ سرچ کا نقشہ مکمل طور پر بدل سکتا ہے، اور اے آئی ٹولز انسانی علم کے حصول کا مرکزی ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
کیلیفورنیا: گوگل سیلفی ویڈیو فیچر متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنے گوگل اکاؤنٹ میں سائن اِن اور اکاؤنٹ ریکوری کے دوران مختصر سیلفی ویڈیو کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد آن لائن فراڈ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور اکاؤنٹ ہیکنگ جیسے بڑھتے ہوئے خطرات سے صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
گوگل کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق یہ فیچر روایتی تصدیقی طریقوں کا متبادل ہوگا، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب صارف پاس ورڈ، فون نمبر یا دیگر ریکوری ذرائع استعمال نہ کر سکے۔
سیلفی ویڈیو کے ذریعے تصدیق کیسے ہوگی؟
اس نئے نظام کے تحت صارف کو ایک مختصر لائیو ویڈیو ریکارڈ کرنا ہوگی، جسے گوگل شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کرے گا۔ بعد ازاں جب بھی اکاؤنٹ ریکوری یا سائن اِن کی ضرورت ہوگی تو صارف کو دوبارہ لائیو ویڈیو کے ذریعے اپنی شناخت ثابت کرنا ہوگی۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران صارف کو اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق اپنا سر مختلف سمتوں میں حرکت دینا ہوگی۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تصدیق حقیقی شخص کی ہو اور کسی تصویر یا ڈیپ فیک ویڈیو کے ذریعے سسٹم کو دھوکا نہ دیا جا سکے۔
صارفین کا ڈیٹا کیسے محفوظ رہے گا؟
گوگل کا کہنا ہے کہ گوگل سیلفی ویڈیو فیچر کے تحت محفوظ کی جانے والی ویڈیوز جدید انکرپشن ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ رکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ صارفین کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنے گوگل اکاؤنٹ کے ڈیش بورڈ سے کسی بھی وقت اپنی محفوظ کردہ سیلفی ویڈیو حذف کر سکیں۔
فیچر کہاں دستیاب ہوگا؟
کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کا اجرا مرحلہ وار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث یہ دنیا بھر کے صارفین تک بتدریج پہنچے گا۔
اگر آپ کے اکاؤنٹ میں یہ سہولت دستیاب ہو تو اسے فعال کرنے کے لیے گوگل اکاؤنٹ کی Settings میں جائیں، پھر Security & Sign-in کے آپشن کو منتخب کریں اور وہاں موجود Selfie Video فیچر کو آن کر کے اسکرین پر دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی فراڈ میں اضافے کے بعد بایومیٹرک تصدیقی نظام آن لائن اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ گوگل کا یہ اقدام صارفین کی ڈیجیٹل سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔