ملائیشیا میں طوفانی بگولوں سے تباہی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جکارتا (انٹرنیشنل ڈیسک) ملائیشیا میں طوفانی بگولوں نے تباہی مچادی اور شدید آندھی سے اسکول سمیت کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں ۔ ضلع کوالا لانگت طوفانی بگولوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ،جہاں تیز ہواؤں کے باعث گاڑی چلانا بھی مشکل ہوگیا۔ بگولوں کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں 11 طلبہ سمیت کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل امریکی ریاستوں کینٹکی اور میزوری میں بگولوں اور طوفانی جھکڑوں نے کئی علاقوں میں مکانات کی چھتیں اْڑا دیں تھیں، درخت جڑوں سے اْکھڑ گئے اور درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اس دوران لکڑی کے مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔ حکام کے مطابق تقریباً 5 ہزار سے زائد عمارتیں متاثر ہوئیں جبکہ 3 لاکھ سے زائد افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہوگئے تھے۔ شدید موسمی حالات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔