data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گوگل نے اپنے صارفین کے لیے اکاؤنٹ ریکوری کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور محفوظ بنانے کے لیے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے۔

جن لوگوں کا گوگل اکاؤنٹ ہیک ہو جاتا ہے یا وہ پاس ورڈ بھول جاتے ہیں، اُن کے لیے اب اکاؤنٹ واپس حاصل کرنا ایک نہایت سہل عمل بننے والا ہے۔

گوگل کے مطابق نئے سیکیورٹی فیچرز کا مقصد نہ صرف اکاؤنٹس کو ہیکنگ سے محفوظ رکھنا ہے بلکہ ریکوری کے دوران صارفین کو طویل اور پیچیدہ مرحلوں سے بچانا بھی ہے۔ ان میں سب سے دلچسپ فیچر “ریکوری کانٹیکٹس” ہے، جو بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی گیم شو میں “فون اے فرینڈ” کا آپشن دیا جاتا ہے۔

اس فیچر کے ذریعے صارف اپنے گوگل اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جا کر کسی قابلِ اعتماد شخص — جیسے شریکِ حیات یا قریبی دوست — کو ریکوری کانٹیکٹ کے طور پر شامل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر کبھی اکاؤنٹ ہیک ہو جائے یا پاس ورڈ یاد نہ رہے تو “Ask your friend to help you sign in” کا آپشن ظاہر ہوگا۔ منتخب کانٹیکٹ کو اپنی ڈیوائس پر نوٹیفکیشن ملے گا، اور جب وہ صارف کی شناخت کی تصدیق کر دے گا تو اکاؤنٹ تک دوبارہ رسائی ممکن ہو جائے گی۔

مزید برآں، گوگل نے فون نمبر سے جڑے ایک اضافی ریکوری آپشن کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس فیچر کے تحت صارف سے اُس ڈیوائس کا سابقہ پن یا پیٹرن کوڈ مانگا جائے گا، جس سے پہلے اکاؤنٹ استعمال کیا گیا تھا۔

یہ تمام اپ ڈیٹس فی الحال مرحلہ وار جاری کی جا رہی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف اکاؤنٹ سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا بلکہ صارفین کے لیے اپنا اکاؤنٹ واپس حاصل کرنا بھی کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس