ٹرینوں کا شیڈول متاثر، لاہور سے کراچی جانیوالی ٹرین منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سعیداحمد: سیلاب متاثرہ ٹریک کے باعث لاہور سے کراچی سمیت دیگر شہروں کو جانے اور آنے والی ٹرینوں کا شیڈول متاثر، لاہور سے کراچی جانے والی شاہ حسین ایکسپریس منسوخ کردی گئی۔
پاک بزنس ایکسپریس کراچی کیلئے اپنے مقررہ وقت سہ پہر 4 بجکر 30 منٹ پر لاہور سے روانہ ہوگی، کراچی ایکسپریس کراچی کیلئے شام 6 بجے کی بجائے 45 منٹ تاخیر سے شام 6 بجکر 45 منٹ پر روانہ ہوگی، شاہ حسین ایکسپریس کے مسافروں کو آج گرین لائن میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان
گرین لائن کراچی کیلئے اپنے مقررہ وقت رات 8 بجکر 50 منٹ پر لاہور سے روانہ ہوگی، کراچی جانے والی قراقرم لاہور سے براستہ ساہیوال کراچی جائے گی۔
کراچی جانے والی پاکستان ایکسپریس براستہ لاہور-ساہیوال کراچی جائے گی، کراچی جانے والی ملت ایکسپریس فیصل آباد سے دوپہر 2 بجے روانہ ہوگی۔
ملت ایکسپریس براستہ چک جھمرہ، سانگلہ ہل، لاہور-ساہیوال کراچی جائے گی، کراچی جانے والی رحمان بابا ایکسپریس براستہ لاہور-ساہیوال کراچی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ''فتنہ الخوارج''کے خلاف کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین
کراچی سے آنے والی پاکستان ایکسپریس براستہ ساہیوال-لاہور راولپنڈی جائے گی، کراچی سے آنے والی ملت ایکسپریس براستہ ساہیوال-لاہور، سانگلہ ہل، چک جھمرہ، فیصل آباد جائے گی۔
کراچی سے آنے والی رحمان بابا ایکسپریس براستہ لاہور-ساہیوال پشاور جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایکسپریس براستہ کراچی جانے والی لاہور ساہیوال روانہ ہوگی آنے والی لاہور سے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔