سائنس دانوں کی تاریخی کامیابی: کینسر کا پھیلاؤ روکنے والی ’سپر ویکسین‘ تیار کرلی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں کینسر کے پھیلاؤ اور علاج کے حوالے سے جاری تحقیق میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی ماہرینِ حیاتیات نے ایک ایسی ’سپر ویکسین‘ تیار کی ہے جو کینسر کے بڑھنے اور پھیلنے کے عمل کو نمایاں حد تک روک سکتی ہے۔ ابتدائی آزمائش کے نتائج نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ ویکسین نے چوہوں میں کینسر کے خاتمے اور اس کے دوبارہ ظاہر نہ ہونے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ نئی ویکسین نینوپارٹیکلز پر مبنی ہے جو جسم کے مدافعتی نظام (Immune System) کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کینسر کے خلیات کو نہ صرف پہچانے بلکہ مؤثر انداز میں ان کا خاتمہ بھی کرے۔
یونیورسٹی آف میساچوسیٹس، ایمہرسٹ کے بائیومیڈیکل انجینئرنگ شعبے سے وابستہ پروفیسر پرابھانی اتوکرالے کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق کے دوران چوہوں میں میلانوما، لبلبے کے کینسر اور ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر جیسے خطرناک امراض کے خلاف ویکسین آزمائی گئی۔
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ ویکسین لگوانے والے 88 فیصد چوہے مکمل طور پر ٹیومر سے پاک ہو گئے، جبکہ باقی میں بیماری کا پھیلاؤ نہایت کم سطح پر محدود ہوگیا۔
سائنسی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین نہ صرف ٹیومر کو ختم کرنے میں مددگار ہے بلکہ مستقبل میں دوبارہ کینسر کے حملے کے خلاف حفاظتی ڈھال (Protective Shield) کے طور پر بھی کام کر سکتی ہے۔
اگرچہ یہ کامیابی فی الحال چوہوں کی سطح تک محدود ہے، مگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی آزمائشیں بھی کامیاب رہیں تو یہ ویکسین آنے والے برسوں میں کینسر کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔
محققین نے مزید کہا کہ نینو ٹیکنالوجی پر مبنی یہ طریقہ علاج مستقبل میں کینسر کے ساتھ ساتھ دیگر مہلک امراض کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں کینسر کے میں کی
پڑھیں:
کافی کا استعمال عمر بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے: تحقیق
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں دلچسپ انکشاف کیا گیا ہے کہ کافی کے معتدل استعمال سے انسانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلیک کافی یا کم چینی اور سیر شدہ چکنائی کے ساتھ کافی قبل از وقت موت کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ جب لوگ زیادہ چینی یا کریم کے ساتھ کافی پیتے ہیں تو اس کے صحت کے فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کافی پیتے ہیں، وہ غیر پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً پانچ سال طویل زندگی گزار سکتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ دن میں چار کپ تک کافی پینا ٹیلو میئرز کی لمبائی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹیلو میئرز کروموسومز کے سرے محفوظ رکھنے والے ایسے ساختی اجزاء ہیں جو خلیوں کی تقسیم اور عمومی عمر کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خلیاتی سطح پر ٹیلو میئرز کی کمی اکثر عمر سے متعلقہ بیماریوں جیسے دل کی بیماری، ذیابیطس اور کچھ کینسر کی علامات کے ساتھ جوڑی جاتی ہے، جبکہ ان کی لمبائی بڑھنے کو خلیاتی جوانی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ چار کپ روزانہ (جو تقریباً 400 ملی گرام کیفین کے برابر ہے) سے زیادہ کافی پینے کا کوئی اضافی فائدہ نہیں ہوتا، یعنی اعتدال ہی صحت کے لیے مؤثر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی میں موجود طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش کم کرنے والے مرکبات ہی ٹیلو میئرز کی لمبائی بڑھانے اور حیاتیاتی عمر کے بڑھنے کی رفتار کو سست کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ کیفین بذاتِ خود اس عمل میں اہم نہیں۔
یہ تحقیق کافی کے صحت پر مثبت اثرات کے حوالے سے مزید شواہد فراہم کرتی ہے اور اعتدال میں کافی پینے کو عمر طویل کرنے اور خلیاتی صحت بہتر بنانے کے لیے مفید قرار دیتی ہے۔