data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم شہباز شریف سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور مسلم اسکالرز آرگنائزیشن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔وزیراعظم نے مذاہب، عقائد اور تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مسلم ورلڈ لیگ کے کردار کو سراہا۔وزیراعظم نے پاکستان آمد پر سیکرٹری جنرل کا خیر مقدم کیا۔ وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کی مدبرانہ قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ عالمی سطح پر اسلام کے حقیقی تشخص کو فروغ دینے اور مسلم دنیا کے مشترکہ مقاصد کی وکالت کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاہب، عقائد اور تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مسلم ورلڈ لیگ پیش پیش رہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اس سال مسلم ورلڈ لیگ کے تعاون سے مسلم دنیا کی خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد انتہائی خوش آئند تھا، مستقبل میں اس طرح کی کانفرنسز کے انعقاد میں پاکستان ہر ممکن تعاون کرے گا۔وزیرِ اعظم نے ملاقات میں پاکستان کے سعودیہ عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے خادم الحرمین شریفین سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیر اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان آلسعود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔سیکرٹری جنرل ورلڈ مسلم لیگ نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی بھی موجود تھے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلم ورلڈ لیگ سیکرٹری جنرل کو فروغ دینے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع

سٹی 42:  کفایت شعاری اقدامات میں  نائب وزیر اعظم نے  مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی

کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ