ڈاکٹر زینب سے طلاق کی خبریں، فیروز خان کی سابقہ اہلیہ کا بیان وائرل
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز کے معروف اداکار فیروز خان کی سابقہ اہلیہ، علیزے سلطان نے حال ہی میں اپنے وی لاگ میں اس سماجی رویے پر سوال اٹھایا ہے جس کے تحت بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری صرف ماں پر ڈال دی جاتی ہے۔
علیزے سلطان کا کہنا تھا کہ اگر والدین کے درمیان طلاق یا علیحدگی ہو جائے تو والد کی ذمہ داری صرف مالی تعاون تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے بچوں کی پرورش میں برابر کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ بچوں کی ہر ضرورت، چاہے وہ اسکول لے جانے کی ہو یا روزمرہ کے معاملات پوری کرنے کی، ماں کی ہی ذمہ داری ہے۔
علیزے کے مطابق یہ طرزِ عمل ایک اکیلی ماں (سِنگل مدر) کے لیے نہایت مشکل ہوتا ہے اور بچوں کی پرورش کا تمام بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال دینا ناانصافی ہے کیونکہ والد صرف اخراجات ادا کرنے کی حد تک محدود نہیں۔ علیزے سلطان نے مزید کہا کہ اگر کوئی ماں یہ تمام ذمہ داریاں تنہا نبھا رہی ہے تو یہ معاشرتی دباؤ کا نتیجہ ہے، اور ایسے نظام کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ علیزے سلطان اور فیروز خان کی شادی 2018 میں ہوئی تھی اور دونوں کے دو بچے، سلطان اور فاطمہ، ہیں۔ یہ جوڑی 2023 میں علیحدہ ہوگئی تھی، جبکہ فیروز خان نے 2024 میں اپنی سائیکلوجسٹ ڈاکٹر زینب سے دوسری شادی کر لی تھی تاہم ان دنوں فیروز اور ان کی دوسری اہلیہ کی طلاق کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیزے سلطان فیروز خان بچوں کی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔