Jasarat News:
2026-06-03@04:36:33 GMT

دنیا میں سب سے زیادہ قرض امریکا پر، بھارت  کا نمبر ساتواں

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کی معیشت پر قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس حوالے سے ایک تازہ رپورٹ میں حیران کن حقائق انکشافات ہوئے ہیں۔

امریکی تحقیقی ادارے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کے مطابق امریکا اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے، جس پر مجموعی طور پر 32.

9 ٹریلین ڈالر کا قرضہ چڑھا ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ہر امریکی شہری پر اوسطاً 76 ہزار ڈالر کا قرض بنتا ہے، جو عالمی معیشت کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قرضوں کی اس فہرست میں چین 15 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دوسرے، جاپان 10.9 ٹریلین ڈالر کے ساتھ تیسرے، جب کہ برطانیہ اور فرانس 3.4 ٹریلین ڈالر کے قرضوں کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ اٹلی 3.1 ٹریلین ڈالر کے ساتھ چھٹے اور بھارت 3 ٹریلین ڈالر کے قومی قرض کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔

بھارتی معیشت کے بارے میں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پر 3 ہزار ارب ڈالر سے زائد قومی قرض ہے اور ہر بھارتی شہری اوسطاً 504 ڈالر کا مقروض ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں حکومت ہر سال اربوں ڈالر صرف قرض کے سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہی ہے جب کہ ملک کی بڑی آبادی اب بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی ، تعلیم، صحت، روزگار اور صاف پانی  سے محروم ہے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کی تیز رفتار ترقی کے دعوے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پاکستان کا اس فہرست میں 33واں نمبر بتایا گیا ہے، جس پر مجموعی طور پر 260.8 ارب ڈالر کا قومی قرض ہے۔ فی کس کے لحاظ سے ہر پاکستانی تقریباً 543 ڈالر کا مقروض ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو قرضوں کے ساتھ ساتھ سود کی ادائیگیوں کا دباؤ بھی درپیش ہے، جس سے معیشت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بنگلا دیش کا قومی قرض 177.6 ارب ڈالر ہے اور ہر شہری 611 ڈالر کا مقروض ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ بنگلا دیش کا کل قرض پاکستان سے کم ہے، مگر فی کس قرض کی شرح قدرے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بڑے ممالک میں افغانستان سب سے کم مقروض ملک ہے، جس پر صرف 1.6 ارب ڈالر کا قرض ہے اور فی افغان شہری پر صرف 30 ڈالر کا بوجھ ہے۔ اسی طرح اگر فی کس قرض کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آئرلینڈ دنیا میں سرفہرست ہے، جہاں ہر شہری پر حیران کن طور پر 6 لاکھ 14 ہزار ڈالر کا قرض ہے۔

عالمِ اسلام کے تناظر میں رپورٹ نے یہ انکشاف کیا کہ مسلم دنیا کے کئی بڑے ممالک بھی قرض کے دائرے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان میں انڈونیشیا 543 ارب ڈالر کے ساتھ مقروض ترین مسلم ملک ہے، اس کے بعد مصر 377 ارب، ترکی 330 ارب، سعودی عرب 280 ارب اور ملائیشیا 278 ارب ڈالر کے قومی قرض کے ساتھ فہرست میں شامل ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے قرضوں کی یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ عالمی مالیاتی نظام تیزی سے غیر مستحکم ہو رہا ہے۔ بلند شرح سود، بجٹ خسارے، اور حکومتی اخراجات میں بے احتیاطی نے کئی ملکوں کو قرض کے جال میں پھنسا دیا ہے۔

اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی شدید مالی بحرانوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر معیشت کے توازن کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ممالک اپنے قرضوں کے ڈھانچے پر نظرثانی کریں اور پائیدار معاشی پالیسیاں اپنائیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹریلین ڈالر کے ڈالر کے ساتھ ڈالر کا قرض رپورٹ میں کے مطابق ارب ڈالر ہے اور قرض ہے قرض کے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی