دنیا کے 86 ممالک پر آئی ایم ایف کا قرضہ 162 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
دنیا بھر میں معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے 86 ممالک پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مجموعی قرضہ 162 ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس جاری ہیں، جن میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مالیاتی بحران زیربحث ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف کو اکثر’’آخری امید کا قرض دہندہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے قرضے سخت شرائط کے باعث قرض لینے والے ممالک کی معیشتوں کو مزید دباؤ میں ڈال دیتے ہیں۔ ان شرائط کے نتیجے میں مہنگائی، بیروزگاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں بڑھتی ہیں، جو عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
آئی ایم ایف میں رکن ممالک کی تعداد اب 191 ہو چکی ہے، جو 1944 میں محض 44 تھی۔ ہر ملک اپنی معیشت کے حجم کے مطابق فنڈ میں حصہ ڈالتا ہے۔ 2024 کے دوران صرف سود کی مد میں 50 ممالک نے آئی ایم ایف کو مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کیں۔
قرضوں کی تفصیلات کے مطابق ارجنٹینا 57 ارب ڈالر سے زائد قرض کے ساتھ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مقروض ملک بن چکا ہے، جب کہ یوکرین 14 ارب ڈالر کے قرض کے ساتھ دوسرے اور مصر 9 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ تمام قرضے’’اسپیشل ڈرائنگ رائٹس‘‘ (SDRs) یونٹ میں ظاہر کیے جاتے ہیں، جو آئی ایم ایف کا ایک بین الاقوامی مالیاتی پیمانہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تجارتی دباؤ، خاص طور پر امریکی پابندیوں اور مالیاتی سختیوں نے کئی ترقی پذیر ممالک کو آئی ایم ایف کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں سے نکلنے کے لیے انہیں سخت معاشی اصلاحات کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ارب ڈالر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔