غزہ میں 3 مسلمان ممالک کی افواج کی تعیناتی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
امریکی صدر کے پیش كردہ امن منصوبے کے مطابق، واشنگٹن، عرب شراکت داروں اور دیگر ممالک کے تعاون سے غزہ میں عارضی استحکام قائم کرنے کیلئے ایک فورس تشکیل دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پولیٹیکو نیوز ویب نے رپورٹ دی کہ مستقبل میں غزہ کی پٹی میں مبینہ طور پر استحکام قائم کرنے کے مقصد سے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی فورس میں انڈونیشیاء، آذربائیجان اور پاکستان کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ اسی سلسلے میں امریکہ کے سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا کہ ان ممالک نے ابھی تک باقاعدہ طور پر اس ذمہ داری کو قبول نہیں کیا، لیکن اس بارے میں مذاکرات پیشرفت کر رہے ہیں اور ان ممالک نے اس منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرامپ" کے پیش كردہ امن منصوبے کے مطابق، واشنگٹن، عرب شراکت داروں اور دیگر ممالک کے تعاون سے غزہ میں عارضی استحکام قائم کرنے کے لئے ایک فورس تشکیل دے گا۔
یہ فورس بھرتی ہونے والے فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت اور معاونت کرے گی۔ فورس کی تشکیل کا یہ عمل مصر اور اردن کے تعاون سے ہوگا۔ امریکہ نے اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ اس منصوبے کے تحت، غزہ میں کوئی امریکی فوجی دستہ تعینات نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ کچھ دن پہلے عبرانی میڈیا نے انڈونیشیاء کے صدر کے ممکنہ دورہ فلسطین کی اطلاعات دی تھیں۔ تاہم اس خبر کے کچھ ہی دیر بعد، انڈونیشیاء کی حکومت نے صیہونی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی تردید کی۔ صیہونی میڈیا کا دعویٰ تھا کہ انڈونیشیاء کے صدر، تل ابیب کے دورے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔