Express News:
2026-06-03@04:06:28 GMT

جسٹس (ر) جنید غفار کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین مقرر

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

کراچی:

وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) محمد جنید غفار کو کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل کا چیئرمین تعینات کردیا۔

کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل ایک قانونی ادارہ ہے جو کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کرتا ہے۔ اس سے قبل کمپٹیشن اپلیٹ ٹربیونل کے چئیرمین جسٹس (ر) سجاد علی شاہ 13اگست 2025 کو 68 سال کی عمر مکمل ہونے پر ریٹائر ہوگئے تھے جنہیں 25فروری 2025 کو ٹربیونل کا چئیرمین مقرر کیا گیا تھا۔

اپنے مختصر مگر فعال تعیناتی کے دوران انہوں نے ٹربیونل میں زیرِ التوا مقدمات میں سے تقربیاً 50  فیصد مقدمات کے فیصلے کیے اور بیک لاگ میں نمایاں کمی کی۔

جسٹس جنید غفار ایک تجربہ کار سینئر جج ہیں جنہیں آئینی اور تجارتی قوانین پر عبور حاصل ہے۔ وہ 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، 2015 میں مستقل جج بنے اور بعد ازاں 14 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس جب کہ 8 جولائی 2025 کو سندھ ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس تعینات ہوئے۔

انہوں نے 13 ستمبر 2025 کو چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لی۔ عدالتی خدمات کے دوران انہوں نے آئینی، تجارتی اور سول مقدمات میں اہم فیصلے دیے۔

کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل، کمپٹیشن ایکٹ کے تحت قائم ایک عدالت ہے جہاں کمپٹیشن کمیشن کے فیصلوں، جرمانوں اور احکامات کے خلاف اپیلیں سنی جاتی ہیں۔ یہ ادارہ ملک میں منصفانہ مسابقت کے فروغ، شفافیت اور کاروباری اداروں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جسٹس (ر) جنید غفار کے تقرر سے توقع ہے کہ ٹربیونل میں عدالتی معیار، کارکردگی اور کمپٹیشن کے قانون کی تشریح میں مزید بہتری آئے گی۔ ٹربیونل کے دیگر 2 ممبران میں ڈاکٹر فیض الہی میمن اور عاصم اکرم شامل ہیں، جنہیں فروری 2025 میں تعینات کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنید غفار چیف جسٹس

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور