Express News:
2026-07-24@03:37:39 GMT

جسٹس (ر) جنید غفار کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین مقرر

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

کراچی:

وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) محمد جنید غفار کو کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل کا چیئرمین تعینات کردیا۔

کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل ایک قانونی ادارہ ہے جو کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کرتا ہے۔ اس سے قبل کمپٹیشن اپلیٹ ٹربیونل کے چئیرمین جسٹس (ر) سجاد علی شاہ 13اگست 2025 کو 68 سال کی عمر مکمل ہونے پر ریٹائر ہوگئے تھے جنہیں 25فروری 2025 کو ٹربیونل کا چئیرمین مقرر کیا گیا تھا۔

اپنے مختصر مگر فعال تعیناتی کے دوران انہوں نے ٹربیونل میں زیرِ التوا مقدمات میں سے تقربیاً 50  فیصد مقدمات کے فیصلے کیے اور بیک لاگ میں نمایاں کمی کی۔

جسٹس جنید غفار ایک تجربہ کار سینئر جج ہیں جنہیں آئینی اور تجارتی قوانین پر عبور حاصل ہے۔ وہ 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، 2015 میں مستقل جج بنے اور بعد ازاں 14 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس جب کہ 8 جولائی 2025 کو سندھ ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس تعینات ہوئے۔

انہوں نے 13 ستمبر 2025 کو چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لی۔ عدالتی خدمات کے دوران انہوں نے آئینی، تجارتی اور سول مقدمات میں اہم فیصلے دیے۔

کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل، کمپٹیشن ایکٹ کے تحت قائم ایک عدالت ہے جہاں کمپٹیشن کمیشن کے فیصلوں، جرمانوں اور احکامات کے خلاف اپیلیں سنی جاتی ہیں۔ یہ ادارہ ملک میں منصفانہ مسابقت کے فروغ، شفافیت اور کاروباری اداروں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جسٹس (ر) جنید غفار کے تقرر سے توقع ہے کہ ٹربیونل میں عدالتی معیار، کارکردگی اور کمپٹیشن کے قانون کی تشریح میں مزید بہتری آئے گی۔ ٹربیونل کے دیگر 2 ممبران میں ڈاکٹر فیض الہی میمن اور عاصم اکرم شامل ہیں، جنہیں فروری 2025 میں تعینات کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنید غفار چیف جسٹس

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن