پاکستان کا ایران، بنگلا دیش اور کویت کیساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے ایران، بنگلا دیش اور کویت کے ساتھ افرادی قوت اور محنت کے شعبے میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ محفوظ، منظم اور جامع لیبر مائیگریشن کو فروغ دیا جا سکے۔یہ اتفاق دوحا میں منعقدہ ایک علاقائی اجلاس کے موقع پر ہوا، جہاں وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چودھری سالک حسین نے ایران، بنگلا دیش اور کویت کے نمائندوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان مسلم امہ کے ایک فعال رکن کے طور پر سماجی انصاف، محنت کشوں کی فلاح اور مؤثر لیبر ڈپلومیسی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ایران کی لیبر ایڈوائزر نے اسرائیل تنازع کے دوران پاکستان کے اصولی مؤقف پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم تعاون اسلامی کو رکن ممالک میں نوجوانوں کے روزگار کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔