ایران ناوابستہ تحریک کیساتھ اقتصادی تعاون مضبوط بنانے میں پر عزم ہے، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کیساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق ایران کے عزم پر زور دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے یوگنڈا کے تاجروں کو دعوت دی کہ وہ بھی اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی کمپنیوں کیساتھ تجارتی مواقع تلاش کریں اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کہ جو ناوابستہ تحریک (NAM) کے 19ویں عبوری اجلاس میں شرکت کے لئے کمپالا میں موجود ہیں، نے بی بی ای جی یوگنڈا (BBEG UGANDA) نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اپنی گفتگو میں سید عباس عراقچی نے ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے ایران کے عزم کی جانب ایک بار پھر اشارہ کیا اور باہمی تجارت و پیشرفت میں ترقی پر مبنی ایرانی اقتصادی صلاحیت پر زور دیا۔
ناوابستہ تحریک کے 19ویں وزارتی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی کی جانب سے جاری ہونے والے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے، سید عباس عراقچی نے رکن ممالک کی جانب سے اقتصادی سفارتکاری کو ترجیح دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی اور جنوبی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی روز افزوں ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اتحاد کے اندر موثر سفارتکاری اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اتحاد و شراکت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ یکجہتی ہمارے تمام شراکتداروں کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے باہمی اقتصادی خوشحالی کی جانب صدر موسیوینی کی خصوصی توجہ کو سراہتے ہوئے اسے رکن ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی مضبوطی میں کلیدی عنصر بھی قرار دیا۔
سید عباس عراقچی نے تاکید کی کہ ایران تمام چیلنجوں سے نپٹنے، تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے نیز تیل و گیس جیسے تقابلی فوائد کے حامل شعبوں میں مہارت کے اشتراک کے لئے ناوابستہ تحریک کے اراکین کے ساتھ تعاون کی اعلی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکہ و یورپی یونین کی جانب سے ایران کے خلاف عائد "غیر منصفانہ پابندیوں" پر بھی تشویش کا اظہار کیا جو اُن کے بقول دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کو محدود بنا رہی ہیں۔ انہوں نے یوگنڈا کے تاجروں کو ایران کا دورہ کرنے اور ایرانی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی مواقع کی تلاش کی دعوت بھی دی اور یوگنڈا میں مشغول ایرانی کمپنیوں کی خدمات کو سرایتے ہوئے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کو قابل قدر قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی اقتصادی تعاون رکن ممالک ایران کے ممالک کے کی جانب کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔