ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کیساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق ایران کے عزم پر زور دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے یوگنڈا کے تاجروں کو دعوت دی کہ وہ بھی اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی کمپنیوں کیساتھ تجارتی مواقع تلاش کریں اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کہ جو ناوابستہ تحریک (NAM) کے 19ویں عبوری اجلاس میں شرکت کے لئے کمپالا میں موجود ہیں، نے بی بی ای جی یوگنڈا (BBEG UGANDA) نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اپنی گفتگو میں سید عباس عراقچی نے ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے ایران کے عزم کی جانب ایک بار پھر اشارہ کیا اور باہمی تجارت و پیشرفت میں ترقی پر مبنی ایرانی اقتصادی صلاحیت پر زور دیا۔ 

ناوابستہ تحریک کے 19ویں وزارتی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی کی جانب سے جاری ہونے والے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے، سید عباس عراقچی نے رکن ممالک کی جانب سے اقتصادی سفارتکاری کو ترجیح دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی اور جنوبی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی روز افزوں ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اتحاد کے اندر موثر سفارتکاری اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اتحاد و شراکت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ یکجہتی ہمارے تمام شراکتداروں کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے باہمی اقتصادی خوشحالی کی جانب صدر موسیوینی کی خصوصی توجہ کو سراہتے ہوئے اسے رکن ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی مضبوطی میں کلیدی عنصر بھی قرار دیا۔

سید عباس عراقچی نے تاکید کی کہ ایران تمام چیلنجوں سے نپٹنے، تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے نیز تیل و گیس جیسے تقابلی فوائد کے حامل شعبوں میں مہارت کے اشتراک کے لئے ناوابستہ تحریک کے اراکین کے ساتھ تعاون کی اعلی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکہ و یورپی یونین کی جانب سے ایران کے خلاف عائد "غیر منصفانہ پابندیوں" پر بھی تشویش کا اظہار کیا جو اُن کے بقول دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کو محدود بنا رہی ہیں۔ انہوں نے یوگنڈا کے تاجروں کو ایران کا دورہ کرنے اور ایرانی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی مواقع کی تلاش کی دعوت بھی دی اور یوگنڈا میں مشغول ایرانی کمپنیوں کی خدمات کو سرایتے ہوئے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کو قابل قدر قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی اقتصادی تعاون رکن ممالک ایران کے ممالک کے کی جانب کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا