پاکستان اور امارات کا جی ٹو فریم ورک معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی اور حکومت پاکستان کے درمیان جی ٹو جی فریم ورک کے تحت فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا معاہدہ طے پا گیا۔
تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جی ٹو فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ایک اچھے سفر کا آغاز ہے، منصوبے سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں جیالو جیکل سروے آف پاکستان کی ایڈوانس ریسرچ لیبارٹری کا افتتاح کردیا۔
تقریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراء، اور دیگر غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔
افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید لیبارٹری کے قیام سے ملک کے معدنی ذخائر کے مؤثر استعمال میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم ہاؤس اعلامیے کے مطابق جدید آلات اور بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ صلاحیت، پاکستان کے معدنی وسائل کی تحقیق میں اہم پیشرفت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔