ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے 20 ٹیموں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے ٹیموں کی لائن اپ فائنل کر دی گئی ہے، جو بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں اگلے سال کے اوائل میں منعقد ہوگا۔
ٹورنامنٹ میں 20 ٹیمیں حصہ لیں گی، جن میں سے آخری 3 ٹیموں نیپال، عمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حال ہی میں ایشیا/ایسٹ ایشیا پیسفک کوالیفائر کے ذریعے اپنی جگہ پکی کی۔
نیپال نے عمان کو 38 رنز سے شکست دے کر کوالیفائر جیتا۔ یہ نیپال کی ٹی20 ورلڈ کپ میں دوسری لگاتار اور مجموعی طور پر تیسری شرکت ہوگی، جبکہ عمان چوتھی بار اور یو اے ای تیسری بار عالمی مقابلے میں حصہ لے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی کوچ نے بابراعظم کی ٹی20 ورلڈ کپ میں واپسی کا راستہ بتا دیا
یورپ سے اٹلی پہلی بار ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا، جس نے نیدر لینڈز کے ساتھ یورپی کوالیفائر کے ذریعے کوالیفائی کیا۔ افریقہ ریجن سے نمیبیا اور زمبابوے، جبکہ امریکا ریجن سے کینیڈا نے ورلڈ کپ کے لیے اپنی جگہ بنائی ہے۔
بھارت بطور دفاعی چیمپیئن میدان میں اترے گا، جس نے 2024 کے فائنل میں جنوبی افریقہ کو 7 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا۔ بھارت، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز 3 ایسی ٹیمیں ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ بار ٹی20 ورلڈ کپ جیتا ہے۔
ٹورنامنٹ 2024 کے ایڈیشن کی طرح ہی فارمیٹ کے تحت کھیلا جائے گا، جس میں 20 ٹیمیں 4 گروپوں میں تقسیم ہوں گی۔ ہر گروپ کی 2 بہترین ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے میں جائیں گی، جہاں سے 4 ٹیمیں سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
مزید پڑھیں: ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن کے 9 اہم حقائق کیا ہیں؟
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرنے والی ٹیموں میں بھارت اور سری لنکا میزبان ممالک کے طور پر شامل ہیں۔ افغانستان، آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، امریکا اور ویسٹ انڈیز نے 2024 کے ورلڈ کپ میں ٹاپ 7 فِنِش حاصل کرکے کوالیفائی کیا۔
پاکستان، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے اپنی جگہ آئی سی سی ٹی20 ٹیم رینکنگ کے ذریعے بنائی۔ دیگر ٹیموں میں کینیڈا (امریکا کوالیفائر)، اٹلی اور نیدرلینڈز (یورپ کوالیفائر)، نمیبیا اور زمبابوے (افریقہ کوالیفائر)، جبکہ نیپال، عمان اور یو اے ای (ایشیا/ای اے پی کوالیفائر) شامل ہیں۔
یہ 20 ٹیمیں کرکٹ کے سب سے بڑے ٹی20 میلے میں ایک بار پھر شائقین کو زبردست مقابلے پیش کریں گی، جس کا آغاز 2026 کے آغاز میں بھارت اور سری لنکا کے میدانوں میں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2026 آئی سی سی مینز بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا کینیڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا کینیڈا ورلڈ کپ میں ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔