ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کی لائن اپ مکمل، تمام ٹیموں کے نام سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے ٹیموں کی لائن اپ مکمل ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کو ایشیا پیسیفک ریجن سے متحدہ عرب امارات نے جاپان کو شکست دے کر آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کےلیے کوالیفائی کرلیا۔
یو اے ای ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں رسائی حاصل کرنے والی آخری ٹیم ہے جس کے بعد تمام 20 ٹیموں کا فیصلہ ہوگیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں میزبان بھارت اور سری لنکا کے علاوہ پاکستان، آسٹریلیا، بنگلا دیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز ، نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔
اس کے علاوہ نمیبیا، زمبابوے، آئرلینڈ، کینیڈا، اٹلی، نیدرلینڈز، نیپال، عمان، امریکا اور یو اے ای بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلیں گے۔
The 20 teams that will feature at next year's Men's #T20WorldCup have now been confirmed ????
More ???? https://t.
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اگلے سال 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔