سعودی عرب، قطر اور انگلینڈ کی فیفا ورلڈکپ 2026 میں رسائی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سعودی عرب، قطر اور انگلینڈ نے فیفا ورلڈکپ 2026 میں رسائی حاصل کرلی۔
سعودی عرب نے عراق کے ساتھ بغیر کسی گول کے مقابلہ ڈرا کرکے مسلسل دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ میں رسائی حاصل کی۔
میگا ایونٹ آئندہ برس امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر شیڈول ہے۔
سعودی ٹیم کو صرف ایک پوائنٹ درکار تھا، گول کیپر نواف الاکیدی نے حسن عبد الکریم کی فری کک کو روک کر عراق کو جیت سے محروم رکھا۔
اس نتیجے کے ساتھ سعودی عرب کی ٹیم گروپ بی میں ٹاپ پوزیشن پر پہنچ گئی۔
اگرچہ سعودی عرب اور عراق کے پوائنٹس برابر ہیں مگر سعودی ٹیم نے بہتر گول اوسط کی بنیاد پر پہلی پوزیشن لے کر میگا ایونٹ میں براہ راست رسائی ممکن بنالی۔
اب عراق کو متحدہ عرب امارات کے خلاف دو میچز کی پلے آف سیریز کھیلنا ہوگی جس سے بین الاقوامی پلے آف میں جانے والی ایشین ٹیم کا تعین ہو گا۔
دوسری جانب قطر نے یواے ای کو 1-2 سے جبکہ انگلینڈ نے لاٹویا کو 0-5 سے قابو فیفا ورلڈکپ 2026 میں جگہ بنا لی۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
غزہ معاہدے کے حامی مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور‘ کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو غزہ میں امن کے لیے اسرائیل کی وابستگی پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ امن معاہدے کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے‘ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیوں کہ علاقے میں نازک جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 اکتوبر کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل نے علاقے پر بمباری جاری رکھی ہے، اور امن کے لیے طویل مدتی منصوبے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر ایک طرفہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، اور اسرائیلی افواج ’معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینی، بشمول بچے، مارے جا رہے ہیں‘۔
The ceasefire agreement in Gaza has been criticized for being one-sided, Israeli forces continue to violate the truce, killing Palestinians, including children. Since the ceasefire took effect on October 10, at least 352 Palestinians have been killed, and over 70,000 people have…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 29, 2025
خواجہ آصف نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کے اقدامات نے اس کی وابستگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مسلم ممالک جو اس معاہدے کی حمایت کر چکے ہیں (جن میں ترکی، مصر اور قطر شامل ہیں) کو جاری تشدد کے پیش نظر اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو فلسطینی مسئلے کے حتمی حل کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے نشاندہی کی کہ جب سے 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہوئی، کم از کم 352 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ تصادم کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری خصوصاً مغربی حکومتوں کو اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔
امریکی ثالثی میں طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی بنیاد بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام پر ہے، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ہے، تاہم، وہ ممالک جو پہلے اس منصوبے کی حمایت کر چکے تھے، اب تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان غزہ امن فورس میں فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ ہمارا کام نہیں، بلکہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے، ہمارا کام امن قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں۔