جو آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات ممکن نہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جو لوگ آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے، اور نیشنل پیس آپریشن کے لیے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کو ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے یہ بات پولیس ٹریننگ سینٹر ڈی آئی خان کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔
دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیفیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر علاقوں میں امن قائم ہے، تاہم بعض علاقوں میں شرپسند عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ حملے میں ایک حملہ آور مقامی جبکہ باقی افغانی تھے، جو براہ راست افغانستان سے رابطے میں تھے۔
’ہم بار بار کہتے ہیں کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے افغان بہن بھائیوں کو دہائیوں تک پناہ دی، لیکن افسوس ہے کہ آج وہ بھارت کے اشاروں پر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا ایک وفد بھارت میں موجود تھا اور اسی دوران پاکستان پر حملہ کیا گیا، جو بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
امن، ترقی اور قومی اتفاقِ رائےگورنر نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کے لیے پہلے امن کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، اس کی ترقی امن سے مشروط ہے۔
ہم نے ضم شدہ علاقوں میں جرگے بھیجے تاکہ امن قائم ہو، لیکن بعض عناصر پاکستان کے قانون اور ریاست کو نہیں مانتے، ان کے ساتھ صرف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
وفاقی قیادت کے فیصلےفیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت چاروں وزرائے اعلیٰ کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں قومی سلامتی اور آپریشن سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
’دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیاسی و عسکری اتحاد ناگزیر ہے۔ پاکستان میں امن اور استحکام کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔