ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے انتخاب کا عمل مکمل، بابر اعظم سمیت کئی اہم کھلاڑیوں کی واپسی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: قومی سلیکشن کمیٹی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کو حتمی شکل دینے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے، سابق کپتان بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں واپسی کے قوی امکانات ہیں جبکہ صائم ایوب اور محمد حارث کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے حالانکہ دونوں بیٹرز ایشیا کپ میں نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق سلیکشن کمیٹی، کوچنگ اسٹاف اور ٹیم انتظامیہ کے درمیان مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ نوجوان بیٹرز کو مزید اعتماد دینے اور انہیں مستقل کھلاڑیوں کے طور پر تیار کرنے کے لیے مزید موقع فراہم کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حسن علی اور حارث رؤف بھی اسکواڈ میں شامل ہوں گے جبکہ انجری کے باعث طویل عرصے بعد فاسٹ بولر نسیم شاہ کی واپسی کا امکان ہے، دوسری جانب خوشدل شاہ اور حسین طلعت کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ دونوں کھلاڑی حالیہ سیریز میں متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے۔
رپورٹ کے مطابق سلیکٹرز نے نوجوان آل راؤنڈر عرفان نیازی کو بھی دوبارہ اسکواڈ کا حصہ بنانے پر غور کیا ہے، وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی جگہ ان کی شمولیت ممکن نہیں لگتی کیونکہ رضوان کو موجودہ سیٹ اپ میں ٹیم کا مرکزی کھلاڑی تصور کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق شاہین شاہ آفریدی کو فٹنس اور ورک لوڈ کے باعث آرام دینے کی تجویز زیرِ غور ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاہین کو یا تو ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے فارمیٹ میں سے کسی ایک سے آرام دیا جائے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کھلاڑیوں کی فارم، فٹنس اور آئندہ بین الاقوامی شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکواڈ تشکیل دے رہی ہے، ٹیم کا اعلان آئندہ ہفتے چیئرمین پی سی بی کی منظوری کے بعد متوقع ہے، جس کے بعد قومی کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ لاہور میں لگایا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) آئندہ ماہ آسٹریلیا کے دورے سے قبل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے جا رہا ہے، جس کے لیے منتخب ٹیم کا پرفارمنس کے لحاظ سے متوازن اور تجربہ کار کمبی نیشن تیار کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔