خوشی کی عالمی درجہ بندی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
ہمارے ملک کے لوگ کس قدر خوش اور مطمئن ہیں؟ اس سوال کا جواب عمومی طور پر ہر شخص اپنے مخصوص ماحول اور معلومات کی بنیاد پر دینے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دنیا میں ادارہ جاتی سطح پر اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ اس بات کا درست اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگوں کی خوشی اور اطمینان کی سطح کیا ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ خوش قوم کون سی ہے اور لوگوں کے خوش اور ناخوش ہونے کی عمومی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔
یہ ہمارے پڑھنے والوں کے لیے اس لیے بھی دلچسپ ہو گا کہ اس سلسلے میں ان کی اپنی کی ہوئی درجہ بندی کے درست یا غلط ہونے کا پتہ بھی چل جائے گا۔ دنیا کے 147ملکوں کی فہرست میں خوشی کے اعتبار سے پاکستان کا 109واں نمبر ہے۔ گزشتہ برس پاکستان 108ویں نمبر پر تھا اور رواں برس ہم ایک درجہ مزید کمی کے ساتھ 109ویں نمبر پر ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خوشی میں اس قدر نچلے درجے پر ہونے کے باوجود اپنے خطے کے دو حریف ملکوں بھارت اور افغانستان کے مقابلے میں پاکستان کے لوگ زیادہ خوش ہیں۔ بھارت عالمی درجہ بندی میں 118ویں اور افغانستان 147ویں نمبر پر ہے۔
’گیلپ‘ کی سروے رپورٹ کے مطابق معاشی صورتحال سے ہٹ کر جو چیزیں لوگوں کو خوشی سے دور کرنے کا بڑا سبب بن رہی ہیں ان میں ریاست کی جانب سے سماجی سطح پر لوگوں کی مدد و اعانت سے محرومی اور آزادی پر پابندیاں شامل ہیں۔
یہ تو عالمی سطح پر عمومی درجہ بندی کی بات ہے۔ جن مختلف شعبوں میں لوگوں کی رائے معلوم کر کے جامع درجہ بندی کی جاتی ہے ان شعبوں میں عوامی ردعمل کا معاملہ زیادہ دلچسپ ہے۔ عالمی سطح پر لوگوں کو اپنی مرضی سے اپنے لیے چناؤ کرنے کی آزادی میں بھارت 23ویں جب کہ پاکستان135ویں نمبر پر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنی زندگی‘ اپنے ماحول اور سماجی اور سیاسی مستقبل کے لیے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ذہنی تناؤ‘ تفکرات اُداسی اور غصے میں مبتلا لوگوں کی اکثریت کے اعتبار سے بھارت ہم سے کہیں آگے ہے۔بھارت کے 61 فیصد جب کہ پاکستان کے 21فی صد لوگ اس طرح کی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہیں۔ کسی اجنبی کے لیے رضا کارانہ طور پر مدد کے لیے آمادگی میں بھارت کے40.
خیرات دینے میں پاکستان بھارت سے آگے ہے۔ بھارت میں 35 جب کہ پاکستان میں 39 فی صد لوگ خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ سال 2025کی رپورٹ مرتب کرتے ہوئے ماہرین نے جن اہم نقاط کا ذکر کیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ محض معاشی ترقی انسانی خوشی کو یقینی بنانے میں کردار ادا نہیں کرتی۔ پاکستان معاشی اعتبار سے اتنی بہتر حالت میں نہیں لیکن اس تناسب سے خوشی کا معیار بہتر ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی خوشی میں فراخدلی‘ سماجی سطح پر برداشت اور صبر جیسی خصوصیات اور معاشرتی جڑت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آزادی کا لگا بندھا تصور بھی خوشی کا ضامن نہیں ہوتا۔ ریاستی اداروں پر اعتماد کی سطح دونوں ملکوں میں نہایت نچلی سطح پر ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جس اہم ترین بات کی نشاندھی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ معاشرتی اخلاقیات میں مذہب‘ خاندانی اقدار اور مشترکہ پہچان وہ غیر مادی ذرایع ہیں جن سے لوگوں کو نہایت کم مادی آسائشوں اور سہولیات میں بھی قناعت کی دولت حاصل رہتی ہے جو اطمینان کا باعث ہے۔
اس عالمی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2016 سے بھارت ہر سروے میں پاکستان سے پیچھے رہا ہے حالانکہ معاشی اور اقتصادی اعتبار سے بھارت کی حالت پاکستان سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ دوسری طرف مجموعی اعتبار سے 2012ء سے دونوں ملکوں کی حالت میں مسلسل تنزلی آ رہی ہے۔
’گیلپ‘ کے علاوہ ایک اور ادارہ عالمی سطح پر مختلف سماجی رویوں بالخصوص Market economy (منڈی کی معیشت) کے تناظر میں عالمی سرویز کااہتمام کرتا رہتا ہے جس کا نام IPSOS ’ایسپاس‘ ہے۔ یہ ادارہ بھی ہر برس عالمی سطح پر خوشی کی درجہ بندی کے لیے سروے کرواتا ہے۔
اس کا صدر دفتر پیرس میں ہے۔ اس ادارے کے ماہرین نے جو اہم نکات بیان کیے ہیں ان سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ انسان کی معاشی حالت اسے خوش رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ غربت انسان کو بدترین دُکھ اور تکلیف میں دھکیل دیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم اپنی عمر کے کس حصے میں ہیں‘ ہماری آمدن کتنی ہے اور ہم کس ماحول میں رہ رہے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ بیان کی گئی ہے کہ 60برس کی عمر سے پہلے کا عرصہ عموماً انسان کو خوشی سے دور ہی رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 60برس سے70برس کا عرصہ میں انسان سب سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خواتین عموماً 18سے59برس کے عرصہ میں زیادہ مطمئن اور خوش رہتی ہیں جب کہ مردوں میں 20 برس کی عمر کے بعد سے خوشی کی سطح گرنے لگتی ہے۔ ایسپاس نے عالمی سطح پر لوگوں کو خوشی کے معیار اور مقدار کے بارے میں سرویز کا سلسلہ 2011 میں شروع کیا تھا۔ آج تک کے ریکارڈ کے مطابق عالمی سطح پر خوشی میں کمی کا رجحان چلا آ رہا ہے۔ دنیا 2011 سے مسلسل خوشی کے معاملے میں تنزلی کی طرف گامزن ہے۔
ترکی میں خوشی کی سطح میں سب سے زیادہ 40%کی کمی آئی ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا 21فیصد‘ کینیڈا 18اور امریکا میں 16فی صد کی کمی ہوئی۔ اسپین وہ خوش قسمت ملک ہے جس میں خوشی کی سطح میں11فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ واحد ملک ہے جس نے دو ہندسی ترقی حاصل کی ہے۔ رواں برس جو ممالک خوشی میں پہلے دس نمبروں پر ہیں ان میں بالترتیب فن لینڈ‘ ڈنمارک‘ سویڈن‘ نیدر لینڈز‘ کرسٹاریکا‘ ناروے‘ اسرائیل‘ لیکسمبرگ اور میکسیکو شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جب کہ پاکستان عالمی سطح پر پاکستان کے لوگوں کی لوگوں کو خوشی کی کے لیے کی سطح
پڑھیں:
میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔
1248 players. 48 nations. Locked in. ????
The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️
— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026
فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔
World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO
— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026
بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔
اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.
Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h
— TRT World (@trtworld) June 1, 2026
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔
فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی