Express News:
2026-07-24@05:21:59 GMT

خوشی کی عالمی درجہ بندی

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

ہمارے ملک کے لوگ کس قدر خوش اور مطمئن ہیں؟ اس سوال کا جواب عمومی طور پر ہر شخص اپنے مخصوص ماحول اور معلومات کی بنیاد پر دینے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دنیا میں ادارہ جاتی سطح پر اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ اس بات کا درست اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگوں کی خوشی اور اطمینان کی سطح کیا ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ خوش قوم کون سی ہے اور لوگوں کے خوش اور ناخوش ہونے کی عمومی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔

یہ ہمارے پڑھنے والوں کے لیے اس لیے بھی دلچسپ ہو گا کہ اس سلسلے میں ان کی اپنی کی ہوئی درجہ بندی کے درست یا غلط ہونے کا پتہ بھی چل جائے گا۔ دنیا کے 147ملکوں کی فہرست میں خوشی کے اعتبار سے پاکستان کا 109واں نمبر ہے۔ گزشتہ برس پاکستان 108ویں نمبر پر تھا اور رواں برس ہم ایک درجہ مزید کمی کے ساتھ 109ویں نمبر پر ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خوشی میں اس قدر نچلے درجے پر ہونے کے باوجود اپنے خطے کے دو حریف ملکوں بھارت اور افغانستان کے مقابلے میں پاکستان کے لوگ زیادہ خوش ہیں۔ بھارت عالمی درجہ بندی میں 118ویں اور افغانستان 147ویں نمبر پر ہے۔

’گیلپ‘ کی سروے رپورٹ کے مطابق معاشی صورتحال سے ہٹ کر جو چیزیں لوگوں کو خوشی سے دور کرنے کا بڑا سبب بن رہی ہیں ان میں ریاست کی جانب سے سماجی سطح پر لوگوں کی مدد و اعانت سے محرومی اور آزادی پر پابندیاں شامل ہیں۔

یہ تو عالمی سطح پر عمومی درجہ بندی کی بات ہے۔ جن مختلف شعبوں میں لوگوں کی رائے معلوم کر کے جامع درجہ بندی کی جاتی ہے ان شعبوں میں عوامی ردعمل کا معاملہ زیادہ دلچسپ ہے۔ عالمی سطح پر لوگوں کو اپنی مرضی سے اپنے لیے چناؤ کرنے کی آزادی میں بھارت 23ویں جب کہ پاکستان135ویں نمبر پر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنی زندگی‘ اپنے ماحول اور سماجی اور سیاسی مستقبل کے لیے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ذہنی تناؤ‘ تفکرات اُداسی اور غصے میں مبتلا لوگوں کی اکثریت کے اعتبار سے بھارت ہم سے کہیں آگے ہے۔بھارت کے 61 فیصد جب کہ پاکستان کے 21فی صد لوگ اس طرح کی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہیں۔ کسی اجنبی کے لیے رضا کارانہ طور پر مدد کے لیے آمادگی میں بھارت کے40.

7 فی صد لوگ مثبت رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں جب کہ پاکستان میں یہ تناسب 56.9 فی صد ہے، دوسری طرف رضا کارانہ طور پر سماجی سطح پر عملی کام میں 17.2 فی صد بھارتی حصہ لیتے ہیں جب کہ یہ تناسب پاکستان میں 13.3فی صد ہے۔

خیرات دینے میں پاکستان بھارت سے آگے ہے۔ بھارت میں 35 جب کہ پاکستان میں 39 فی صد لوگ خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ سال 2025کی رپورٹ مرتب کرتے ہوئے ماہرین نے جن اہم نقاط کا ذکر کیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ محض معاشی ترقی انسانی خوشی کو یقینی بنانے میں کردار ادا نہیں کرتی۔ پاکستان معاشی اعتبار سے اتنی بہتر حالت میں نہیں لیکن اس تناسب سے خوشی کا معیار بہتر ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی خوشی میں فراخدلی‘ سماجی سطح پر برداشت اور صبر جیسی خصوصیات اور معاشرتی جڑت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آزادی کا لگا بندھا تصور بھی خوشی کا ضامن نہیں ہوتا۔ ریاستی اداروں پر اعتماد کی سطح دونوں ملکوں میں نہایت نچلی سطح پر ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جس اہم ترین بات کی نشاندھی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ معاشرتی اخلاقیات میں مذہب‘ خاندانی اقدار اور مشترکہ پہچان وہ غیر مادی ذرایع ہیں جن سے لوگوں کو نہایت کم مادی آسائشوں اور سہولیات میں بھی قناعت کی دولت حاصل رہتی ہے جو اطمینان کا باعث ہے۔

اس عالمی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2016 سے بھارت ہر سروے میں پاکستان سے پیچھے رہا ہے حالانکہ معاشی اور اقتصادی اعتبار سے بھارت کی حالت پاکستان سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ دوسری طرف مجموعی اعتبار سے 2012ء سے دونوں ملکوں کی حالت میں مسلسل تنزلی آ رہی ہے۔

’گیلپ‘ کے علاوہ ایک اور ادارہ عالمی سطح پر مختلف سماجی رویوں بالخصوص Market economy (منڈی کی معیشت) کے تناظر میں عالمی سرویز کااہتمام کرتا رہتا ہے جس کا نام IPSOS ’ایسپاس‘ ہے۔ یہ ادارہ بھی ہر برس عالمی سطح پر خوشی کی درجہ بندی کے لیے سروے کرواتا ہے۔

اس کا صدر دفتر پیرس میں ہے۔ اس ادارے کے ماہرین نے جو اہم نکات بیان کیے ہیں ان سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ انسان کی معاشی حالت اسے خوش رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ غربت انسان کو بدترین دُکھ اور تکلیف میں دھکیل دیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم اپنی عمر کے کس حصے میں ہیں‘ ہماری آمدن کتنی ہے اور ہم کس ماحول میں رہ رہے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ بیان کی گئی ہے کہ 60برس کی عمر سے پہلے کا عرصہ عموماً انسان کو خوشی سے دور ہی رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 60برس سے70برس کا عرصہ میں انسان سب سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خواتین عموماً 18سے59برس کے عرصہ میں زیادہ مطمئن اور خوش رہتی ہیں جب کہ مردوں میں  20 برس کی عمر کے بعد سے خوشی کی سطح گرنے لگتی ہے۔ ایسپاس نے عالمی سطح پر لوگوں کو خوشی کے معیار اور مقدار کے بارے میں سرویز کا سلسلہ 2011 میں شروع کیا تھا۔ آج تک کے ریکارڈ کے مطابق عالمی سطح پر خوشی میں کمی کا رجحان چلا آ رہا ہے۔ دنیا 2011 سے مسلسل خوشی کے معاملے میں تنزلی کی طرف گامزن ہے۔

ترکی میں خوشی کی سطح میں سب سے زیادہ 40%کی کمی آئی ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا 21فیصد‘ کینیڈا 18اور امریکا میں 16فی صد کی کمی ہوئی۔ اسپین وہ خوش قسمت ملک ہے جس میں خوشی کی سطح میں11فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ واحد ملک ہے جس نے دو ہندسی ترقی حاصل کی ہے۔ رواں برس جو ممالک خوشی میں پہلے دس نمبروں پر ہیں ان میں بالترتیب فن لینڈ‘ ڈنمارک‘ سویڈن‘ نیدر لینڈز‘ کرسٹاریکا‘ ناروے‘ اسرائیل‘ لیکسمبرگ اور میکسیکو شامل ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جب کہ پاکستان عالمی سطح پر پاکستان کے لوگوں کی لوگوں کو خوشی کی کے لیے کی سطح

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا