مودی حکومت کا سیاہ باب، بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بڑی تنزلی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
مودی حکومت کی سفارتی لاپروائی، ناقص خارجہ پالیسی اور ناکامیوں نے بھارت کو ذلت آمیز مقام پر پہنچا دیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بڑی تنزلی دیکھنے میں آئی ہے، ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں بھارتی پاسپورٹ 85 نمبر پر چلا گیا ہے۔
مودی حکومت نے عوامی وسائل کو ہتھیاروں کی خریداری اور اپنے جنگی جنون میں دھکیل دیا۔ نااہل مودی حکومت کی ناکامی اور جنگی جنون نے بھارت میں روزگار، تعلیم اور صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے سرکاری اسپتالوں میں70 فیصد وینٹی لیٹر خراب ہیں، اسپتالوں میں بنیادی ضروریات کی کمی اور جعلی ادویات مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہیں۔
بھارت میں بیروزگاری کی شرح 5.
مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور ذاتی مفادات کی سیاست کا خمیازہ بھارتی عوام بھگت رہے ہیں، ظالم مودی کی تمام تر توجہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی اور ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی میں بدلنے پر مرکوز ہے۔
نااہل مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں اور دہشت گردی کی حمایت نے بھارت کو سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مودی حکومت کی
پڑھیں:
ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سے صرف ویزہ اوور سٹے یعنی ویزہ کی مقررہ مدت سے زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے حکومتی عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی دوسرے ملک میں محض اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے یعنی اوور سٹے کی وجہ سے پاکستان واپس ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محض ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی بھی شہری کے بیرونِ ملک سفر کرنے اور وہاں روزگار حاصل کرنے کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔(جاری ہے)
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے کسی بھی شہری کے سفر پر اس وقت تک پابندی عائد نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے خلاف کسی باقاعدہ سنگین جرم کا ثبوت نہ ہو، وہ ملک کے لیے کوئی سکیورٹی خدشہ نہ بن چکا ہو، یا اس کے خلاف کسی اور مجرمانہ سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہ ہو۔
اہم خبر ، دوسرے ملک میں صرف اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا " جب تک کوئی جرم ثابت نا ہو تب تک سفری پابندی عائد کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے " اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ pic.twitter.com/zbQ5TmsKcV
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 3, 2026 امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو نادانستگی میں یا مجبوری کے تحت بیرونِ ملک ویزے کی مدت ختم ہونے پر ڈی پورٹ کر دیئے جاتے تھے اور پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے یا پاسپورٹ حکام ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیتے تھے، جس سے ان کے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے، عدالت نے اب اس عمل کو قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔