امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت اب روس سے تیل نہیں خریدے گا۔

واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام ماسکو کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں میں ایک بڑا قدم ہوگا۔

مزید پڑھیں: مودی کو کیسے ڈرا، دھما کر امن قائم کرایا، ٹرمپ نے ساری کہانی تفصیل سے بتادی

ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے مودی سے روسی تیل کی درآمدات پر تشویش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی وزیرِاعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ بھارت جلد ہی ان خریداریوں کو ختم کر دے گا۔

بھارت اور چین روسی خام تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، جو یورپی پابندیوں کے بعد رعایتی نرخوں پر تیل حاصل کر رہے تھے۔ اگر بھارت واقعی روسی تیل کی درآمد بند کر دیتا ہے تو یہ عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہوگا۔

مزید پڑھیں: نریندر مودی کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم

بھارتی سفارتخانے نے تاحال اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ مودی نے ایسی کوئی یقین دہانی کرائی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی تیل مودی واشنگٹن.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی تیل واشنگٹن روسی تیل

پڑھیں:

مودی دور میں ہندوتوا نظریہ مضبوط، اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوگئیں

بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک تازہ بحث نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں مختلف انسانی حقوق تنظیموں اور سکھ، مسلمان اور دیگر اقلیتی حلقوں کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ناقدین کے مطابق بھارتی فوج اور ریاستی اداروں کو ہندوتوا نظریے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے سیکولر تشخص پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اقليتی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایس اور مودی حکومت کے گٹھ جوڑ نے ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال کو بڑھایا ہے، جبکہ مذہبی آزادی کے ماحول پر دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ رام مندر کی تعمیر اور اس مقام پر فوجی نمائندوں کی موجودگی بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی سیاست کی عکاس ہے۔

اس حوالے سے متعدد مذہبی اور سماجی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کا قیام بھارت میں بڑھتے ہوئے نظریاتی تنازعات کو نمایاں کرتا ہے۔

ان کے مطابق عسکری قیادت کی طرف سے مندروں کے دورے اور سرکاری سطح پر ہندوتوا نظریہ کے فروغ کے اشارے ملک میں اقلیتوں کے لیے عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہے ہیں۔

انسانی حقوق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر نے عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی، ایاز صادق فارم 47 والے نہیں، لطیف کھوسہ کا وی نیوز کو خصوصی انٹرویو
  • پاکستان سے ہزیمت آمیز شکست، بھارت کا روس سے مزید ایس-400 میزائل خریدنے کا فیصلہ
  • مودی کے اوساں خطا، ٹرمپ کا ایک اور وار، لداخ کے معاملے پر 2 ممالک کے درمیان پھڈا، جنگ کا خطرہ
  • آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں نااہل مودی کا معاشی فریب بے نقاب
  • وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف
  • آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں نااہل مودی کا معاشی فریب بے نقاب 
  • پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
  • اسپیکر قومی اسمبلی نے ملاقات میں اپوزیشن وفد کو کیا یقین دہانی کرائی ہے؟
  • بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث
  • مودی دور میں ہندوتوا نظریہ مضبوط، اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوگئیں