شہباز شریف نے ٹرمپ کی خوشامد و چاپلوسی میں تمام حدیں پار کردیں،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملتان:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کو ریاست کی ہرجگہ رِٹ قائم کرنے کی فکر ہے مگر نوجوانوں کو تعلیم کی فراہمی کی رِٹ قائم نہیں کی جاتی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کی خوشامد اور چاپلوسی کی تمام حدیں پار کردیں۔ گھریلو خواتین کے لیے بھی بنو قابل مفت آئی ٹی کورسز کا اہتمام کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان میں بنوقابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر اور امیر ملتان صہیب عمار صدیقی نے بھی تقریب سے خطاب کیا جبکہ سیکرٹری جنرل الخدمت فاﺅنڈیشن سید وقاص جعفری، عمیر ادریس و دیگر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔
الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت بنوقابل مفت آئی کورسز میں داخلہ کے لیے ہزاروں کی تعداد میں طلبا وطالبات نے امتحان دیا۔ امیر جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور الخدمت کی ٹیم کی بہترین انتظامات پر تحسین کی۔
حافظ نعیم الرحمن نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صرف پنجاب میں ایک کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، صلاحیت ہونے کے باوجود نوجوانوں کو آٹی ٹی کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع دستیاب نہیں، حکمران جلسے روکتے ہیں، آپریشن کرنے پر بضد ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ریاست کی رِٹ قائم کرنی ہے مگر نوجوانوں کو مواقع اور تعلیم فراہم کرنے کی رِٹ قائم کیوں نہیں کی جاتی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہاکہ وزیراعظم نے ٹرمپ کی تعریف میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو شاید امریکی صدر کو خود بھی اپنے بارے میں معلوم نہ ہو، ایک طرف ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو جو اسلحہ فراہم کیا اس کا بالکل درست استعمال ہوا، دوسری طرف وزیراعظم ٹرمپ کی چاپلوسی کررہے تھے، شہباز شریف کے اقدام سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نوجوانوں کو آئی ٹی میں تمام مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں اور ملک کا قرضہ اتر سکتا ہے، شہباز شریف نوجوانوں پر توجہ دیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مفت اور معیاری تعلیم ہر شہری کا حق ہے ، نوجوانوں کو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی ، نوجوان فرسودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ ملک کی نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیاں مافیا کے نرغے میں ہیں ، ہر پارٹی میں اے ٹی ایم موجود ہیں، یہ چہرے بدل بدل کر نظام پر مسلط ہیں، جماعت اسلامی چہرے نہیں نظام بدلنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے ، ہم احتجاج کرتے ہیں تو حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتے ہیں ، ہم نظام کو بدلنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ خدمت کے میدان میں بھی سب سے آگے ہیں ، الخدمت اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو مفت آئی ٹی تربیت فراہم کرہی ہے تو ریاست یا حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی؟ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی گھریلو خواتین کے لیے بھی مفت آئی ٹی کورسز کا آغاز کررہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں کو نومبر کے اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی نوجوانوں کو شہباز شریف ٹرمپ کی مفت آئی آئی ٹی کے لیے نے کہا
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت