UrduPoint:
2026-07-24@04:34:53 GMT

بھارت-طالبان تعلقات: عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی نئی بحث

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

بھارت-طالبان تعلقات: عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی نئی بحث

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اکتوبر 2025ء) افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے گزشتہ جمعرات کو بھارت کا ایک ہفتہ طویل دورہ شروع کیا، جو اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اسلامی بنیاد پرست گروپ کے کسی سرکردہ رہنما کا یہ پہلا سفارتی دورہ تھا۔

یہ سفر اقوام متحدہ کی جانب سے متقی پر عائد سفری پابندی سے عارضی استثنیٰ دینے کے بعد ہی ممکن ہوا۔

اسے نئی دہلی کی جانب سے کابل میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیے بغیر ہی اپنا موقف تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متقی اور بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد، نئی دہلی نے اعلان کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات کو اپ گریڈ کرے گا اور کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا ۔

(جاری ہے)

لیکن اسی دن نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں طالبان رہنما کی طرف سے منعقد کی گئی پریس کانفرنس کی شدید مذمت کی گئی، کیونکہ اس میں صرف مرد صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ بھارتی صحافیوں، میڈیا اداروں اور اپوزیشن سیاست دانوں نے اس فیصلے کی شدید طور پر مذمت کی۔

پریس کلب آف انڈیا نے اس کی "سخت مذمت" کی، جبکہ صحافیوں کی ایک مشہور این جی او (ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا) نے اسے "بھارتی سرزمین پر صریح صنفی امتیاز" قرار دیا۔

دہلی یونین آف جرنلسٹس کی صدر سجاتا مدھوک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بات اشتعال انگیزی ہے کہ طالبان اپنی بدانتظامی کی سیاست کو نئی دہلی میں لے آئیں۔ انہوں نے سوال کیا: "جیو پولیٹکس سب ٹھیک ہے لیکن صنفی سیاست بھی اہم ہے۔ اسے 'بڑے مفاد' کے لیے کیوں قربان کیا جائے؟"

طالبان رہنما موقف میں تبدیلی پر مجبور ہوئے

بھارتی وزارت خارجہ نے اس تنازع سے خود کو یہ کہتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کی کہ "دہلی میں افغانستان کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

"

وزارت نے زور دے کر کہا کہ یہ تقریب صرف اور صرف طالبان کی طرف سے افغان سفارت خانے میں منعقد کی گئی تھی، جس میں بھارتی حکومت کی کوئی شمولیت نہیں تھی۔

تاہم اس سے بھی تنقید ختم نہیں ہوئی اور کچھ آوازوں نے بھارتی حکومت پر اپنی سرزمین پر امتیازی اصولوں کی خاموشی سے اجازت دینے کا الزام لگایا۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کی ایک سرکردہ شخصیت راہول گاندھی نے ایکس پر لکھا: "مسٹر مودی، آپ خواتین صحافیوں کو عوامی فورم سے باہر کرنے کی اجازت دے کر بھارت کی ہر عورت کو بتا رہے ہیں کہ آپ ان کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے سے قاصر ہیں اور ان کا ساتھ دینے میں بہت کمزور ہیں۔

ہمارے ملک میں خواتین کو ہر شعبے میں مساوی شرکت کا حق حاصل ہے۔"

ردعمل کے بعد طالبان نے نئی دہلی میں افغان سفارتخانے میں ایک اور پریس کانفرنس کی اور اس بار خواتین صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا، جنہوں نے تقریب میں اگلی قطار کی نشستوں پر قبضہ کیا اور وزیر سے طالبان کے دور حکومت میں افغان خواتین اور لڑکیوں کی وحشیانہ محکومی کے بارے میں سوال کیا۔

متقی نے 'تکنیکی مسئلے' کو ذمہ دار ٹھہرایا

افغان وزیر خارجہ متقی نے پریس کانفرنس سے خواتین صحافیوں کے اخراج کو "تکنیکی مسئلہ" قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا، "جہان تک پریس کانفرنس کا تعلق ہے، تو یہ مختصر نوٹس پر تھی اور صحافیوں کی ایک مختصر فہرست کا فیصلہ کیا گیا، نیز جو شرکت کی فہرست پیش کی گئی وہ بہت مخصوص تھی۔

یہ ایک تکنیکی مسئلہ سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔"

غیر ملکی امور پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک آزاد صحافی سمیتا شرما جنہوں نے دوسری پریس کانفرنس میں شرکت کی، کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس اس واقعے کو روکنے کے طریقے موجود تھے۔

انہوں نے کہا، "بھارتی وزارت خارجہ بروقت مداخلت کر کے یا پہلی امتیازی پریس کانفرنس میں اپنے اعتراض سے آگاہ کر کے اس خرابی اور خراب نظریات سے خود کو بچا سکتی تھی۔

"

ان کا مزید کہنا تھا، "بھارت میں غم و غصے کا آغاز واقعی اس وقت ہوا جب خواتین صحافیوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی کہ ایک غیر ملکی وفد کے ذریعے صنف کی بنیاد پر ان کے پیشہ ورانہ فرائض میں امتیاز نہ برتا جائے۔"

'بھارتی سفارت کاری نے موقع گنوا دیا'

معروف اخبار دی ہندو میں سفارتی امور کی ایڈیٹر سوہاسینی حیدر کا کہنا ہے کہ طالبان کے موقف میں تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت میں صنفی امتیاز ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "متقی کا طرز عمل، جس میں بھارت کی جانب سے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود سفارت خانے میں طالبان کا جھنڈا لانا بھی شامل تھا، کا مقصد سیاسی تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے قوانین دہلی میں بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔"

حیدر نے بھی دوسری پریس کانفرنس میں شرکت کی اور کہا کہ یہ تبدیلی بیرونی سفارتی دباؤ کی وجہ سے نہیں، بلکہ عوامی ہنگامے اور میڈیا کی یکجہتی کی وجہ سے ہوئی۔

ان کا کہنا تھا، "تاہم، متقی کے ساتھ جے شنکر کی بات چیت کے دوران بھارتی سفارت کاری نے ایک موقع گنوا دیا۔ افغانستان میں صنفی امتیاز، لڑکیوں کی تعلیم، یا خواتین کے کام کرنے کے حق کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا، یہ ایسے مسائل ہیں، جن پر توجہ دی جانی چاہیے تھی۔"

اقدار پر بھارتی مفادات کو ترجیح؟

بھارت اور طالبان کے تعلقات میں بہتری پاکستان اور سخت گیر مذہبی گروپ طالبان کے درمیان تعلقات میں خرابی کے ساتھ موافق معلوم ہوتی ہے۔

اسلام آباد دیگر مسائل کے علاوہ سرحد پار دہشت گردی پر طالبان حکومت سے ناراض ہے اور اس نے افغان سرزمین پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر اجے بساریہ نے کہا کہ بھارت اور طالبان جمہوریت، مذہب اور صنفی پالیسیوں کے حوالے سے اپنے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ بھارتی میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے طالبان کے وزیر پر صنفی امتیاز پر دباؤ ڈالنا درست تھا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "متقی اس مسئلے کی بہتر تعریف کے ساتھ گھر جائیں گے کہ خواتین کے بارے میں ان کا جو رویہ ہے اسے باقی دنیا میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ بھارت کو "اپنی گھریلو صنفی پالیسیوں کے تعلق سے طالبان پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہیے" تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر دونوں فریقوں کی اقدار ہم آہنگ نہیں بھی ہوتی ہیں تو "اس سے افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ بھارت کی عملی مصروفیت میں کوئی خلل بھی نہیں پڑنا چاہیے۔"

زین صلاح الدین (مرالی کرشنن)

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں صنفی امتیاز میں طالبان طالبان کے میں افغان انہوں نے کہ بھارت دہلی میں نئی دہلی کے ساتھ نے کہا کہا کہ کے بعد کی گئی کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار