UrduPoint:
2026-06-03@06:58:41 GMT

بھارت-طالبان تعلقات: عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی نئی بحث

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

بھارت-طالبان تعلقات: عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی نئی بحث

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اکتوبر 2025ء) افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے گزشتہ جمعرات کو بھارت کا ایک ہفتہ طویل دورہ شروع کیا، جو اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اسلامی بنیاد پرست گروپ کے کسی سرکردہ رہنما کا یہ پہلا سفارتی دورہ تھا۔

یہ سفر اقوام متحدہ کی جانب سے متقی پر عائد سفری پابندی سے عارضی استثنیٰ دینے کے بعد ہی ممکن ہوا۔

اسے نئی دہلی کی جانب سے کابل میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیے بغیر ہی اپنا موقف تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متقی اور بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد، نئی دہلی نے اعلان کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات کو اپ گریڈ کرے گا اور کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا ۔

(جاری ہے)

لیکن اسی دن نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں طالبان رہنما کی طرف سے منعقد کی گئی پریس کانفرنس کی شدید مذمت کی گئی، کیونکہ اس میں صرف مرد صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ بھارتی صحافیوں، میڈیا اداروں اور اپوزیشن سیاست دانوں نے اس فیصلے کی شدید طور پر مذمت کی۔

پریس کلب آف انڈیا نے اس کی "سخت مذمت" کی، جبکہ صحافیوں کی ایک مشہور این جی او (ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا) نے اسے "بھارتی سرزمین پر صریح صنفی امتیاز" قرار دیا۔

دہلی یونین آف جرنلسٹس کی صدر سجاتا مدھوک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بات اشتعال انگیزی ہے کہ طالبان اپنی بدانتظامی کی سیاست کو نئی دہلی میں لے آئیں۔ انہوں نے سوال کیا: "جیو پولیٹکس سب ٹھیک ہے لیکن صنفی سیاست بھی اہم ہے۔ اسے 'بڑے مفاد' کے لیے کیوں قربان کیا جائے؟"

طالبان رہنما موقف میں تبدیلی پر مجبور ہوئے

بھارتی وزارت خارجہ نے اس تنازع سے خود کو یہ کہتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کی کہ "دہلی میں افغانستان کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

"

وزارت نے زور دے کر کہا کہ یہ تقریب صرف اور صرف طالبان کی طرف سے افغان سفارت خانے میں منعقد کی گئی تھی، جس میں بھارتی حکومت کی کوئی شمولیت نہیں تھی۔

تاہم اس سے بھی تنقید ختم نہیں ہوئی اور کچھ آوازوں نے بھارتی حکومت پر اپنی سرزمین پر امتیازی اصولوں کی خاموشی سے اجازت دینے کا الزام لگایا۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کی ایک سرکردہ شخصیت راہول گاندھی نے ایکس پر لکھا: "مسٹر مودی، آپ خواتین صحافیوں کو عوامی فورم سے باہر کرنے کی اجازت دے کر بھارت کی ہر عورت کو بتا رہے ہیں کہ آپ ان کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے سے قاصر ہیں اور ان کا ساتھ دینے میں بہت کمزور ہیں۔

ہمارے ملک میں خواتین کو ہر شعبے میں مساوی شرکت کا حق حاصل ہے۔"

ردعمل کے بعد طالبان نے نئی دہلی میں افغان سفارتخانے میں ایک اور پریس کانفرنس کی اور اس بار خواتین صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا، جنہوں نے تقریب میں اگلی قطار کی نشستوں پر قبضہ کیا اور وزیر سے طالبان کے دور حکومت میں افغان خواتین اور لڑکیوں کی وحشیانہ محکومی کے بارے میں سوال کیا۔

متقی نے 'تکنیکی مسئلے' کو ذمہ دار ٹھہرایا

افغان وزیر خارجہ متقی نے پریس کانفرنس سے خواتین صحافیوں کے اخراج کو "تکنیکی مسئلہ" قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا، "جہان تک پریس کانفرنس کا تعلق ہے، تو یہ مختصر نوٹس پر تھی اور صحافیوں کی ایک مختصر فہرست کا فیصلہ کیا گیا، نیز جو شرکت کی فہرست پیش کی گئی وہ بہت مخصوص تھی۔

یہ ایک تکنیکی مسئلہ سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔"

غیر ملکی امور پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک آزاد صحافی سمیتا شرما جنہوں نے دوسری پریس کانفرنس میں شرکت کی، کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس اس واقعے کو روکنے کے طریقے موجود تھے۔

انہوں نے کہا، "بھارتی وزارت خارجہ بروقت مداخلت کر کے یا پہلی امتیازی پریس کانفرنس میں اپنے اعتراض سے آگاہ کر کے اس خرابی اور خراب نظریات سے خود کو بچا سکتی تھی۔

"

ان کا مزید کہنا تھا، "بھارت میں غم و غصے کا آغاز واقعی اس وقت ہوا جب خواتین صحافیوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی کہ ایک غیر ملکی وفد کے ذریعے صنف کی بنیاد پر ان کے پیشہ ورانہ فرائض میں امتیاز نہ برتا جائے۔"

'بھارتی سفارت کاری نے موقع گنوا دیا'

معروف اخبار دی ہندو میں سفارتی امور کی ایڈیٹر سوہاسینی حیدر کا کہنا ہے کہ طالبان کے موقف میں تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت میں صنفی امتیاز ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "متقی کا طرز عمل، جس میں بھارت کی جانب سے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود سفارت خانے میں طالبان کا جھنڈا لانا بھی شامل تھا، کا مقصد سیاسی تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے قوانین دہلی میں بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔"

حیدر نے بھی دوسری پریس کانفرنس میں شرکت کی اور کہا کہ یہ تبدیلی بیرونی سفارتی دباؤ کی وجہ سے نہیں، بلکہ عوامی ہنگامے اور میڈیا کی یکجہتی کی وجہ سے ہوئی۔

ان کا کہنا تھا، "تاہم، متقی کے ساتھ جے شنکر کی بات چیت کے دوران بھارتی سفارت کاری نے ایک موقع گنوا دیا۔ افغانستان میں صنفی امتیاز، لڑکیوں کی تعلیم، یا خواتین کے کام کرنے کے حق کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا، یہ ایسے مسائل ہیں، جن پر توجہ دی جانی چاہیے تھی۔"

اقدار پر بھارتی مفادات کو ترجیح؟

بھارت اور طالبان کے تعلقات میں بہتری پاکستان اور سخت گیر مذہبی گروپ طالبان کے درمیان تعلقات میں خرابی کے ساتھ موافق معلوم ہوتی ہے۔

اسلام آباد دیگر مسائل کے علاوہ سرحد پار دہشت گردی پر طالبان حکومت سے ناراض ہے اور اس نے افغان سرزمین پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر اجے بساریہ نے کہا کہ بھارت اور طالبان جمہوریت، مذہب اور صنفی پالیسیوں کے حوالے سے اپنے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ بھارتی میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے طالبان کے وزیر پر صنفی امتیاز پر دباؤ ڈالنا درست تھا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "متقی اس مسئلے کی بہتر تعریف کے ساتھ گھر جائیں گے کہ خواتین کے بارے میں ان کا جو رویہ ہے اسے باقی دنیا میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ بھارت کو "اپنی گھریلو صنفی پالیسیوں کے تعلق سے طالبان پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہیے" تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر دونوں فریقوں کی اقدار ہم آہنگ نہیں بھی ہوتی ہیں تو "اس سے افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ بھارت کی عملی مصروفیت میں کوئی خلل بھی نہیں پڑنا چاہیے۔"

زین صلاح الدین (مرالی کرشنن)

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں صنفی امتیاز میں طالبان طالبان کے میں افغان انہوں نے کہ بھارت دہلی میں نئی دہلی کے ساتھ نے کہا کہا کہ کے بعد کی گئی کے لیے

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد