افغان طالبان کے بزدلانہ حملے ناکام، طالبان اور فتنۃ الخوارج کے 50 جنگجو ہلاک، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاک فوج نے چمن کے علاقے اسپن بولدک اور ژوب میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے متعدد افغان طالبان کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان کا اسپن بولدک میں بہیمانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور پاکستانی افواج نے مؤثر جواب کارروائی میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
بیان کے مطابق 15 اکتوبر بروز بدھ کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے اسپن بولدک کے 4 مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی فورسز نے مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا، حملہ مقامی بٹی ہوئی بستیوں کے ذریعے منظم کیا گیا تھا جو شہری آبادی کی جان و مال کی پرواہ کیے بغیر انجام دیا گیا۔
افغان فورسز کی چمن میں سول آبادی پر بلااشتعال فائرنگ، پاکستان کا مؤثر جواب
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی جوابی کارروائی میں 15 تا 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یہ صورتحال ابھی بھی برقرار ہے اور فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان کے اسٹیجنگ پوائنٹس پر اضافی تعیناتیوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں بلااشتعال فائرنگ پر پاک فوج کا افغانستان کو بھرپور جواب، 5 ٹینک پوزیشنز تباہ، کمانڈر ہلاک
بیان میں بتایا گیا کہ اسپن بولدک میں یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں تھا— شبِ 14/15 اکتوبر کو افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی بارڈرز پر حملوں کی کوشش کی، جنہیں بھی مؤثر انداز میں پسپا کر دیا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا جوابی کارروائی میں افغان مراکز کو بھاری نقصان پہنچا؛ 8 پوسٹس بشمول 6 ٹینک تباہ ہوئے اور اندازے کے مطابق 25 تا 30 افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے جنگجو ہلاک ہوئے۔
بیان میں افغان طالبان کے اس تاثر کو مسترد کیا گیا کہ حملہ پاکستان کی طرف سے شروع کیا گیا —اسے "گھناونا اور واضح جھوٹ” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ طالبان انتظامیہ کے پروپیگنڈے کو عام حقائق کی جانچ سے آسانی سے بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک افواج ملکی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کے لیے پختہ عزم رکھتی ہیں، کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور اور جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم کا اشتعال انگیزی پر اظہار تشویش
وزیراعظم شہباز شریف نے پاک افغان سرحد پر اشتعال انگیزی پر اظہار تشویش کیا اور کرم سیکٹر میں افغان طالبان کے حملے کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغان طالبان کو ان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور جواب دیا، ملکی سالمیت کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کے لیے استعمال ہونا انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاک افغان دوستی گیٹ کو تباہ کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب
چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ پر افغان طالبان کا ایک اور پروپیگنڈا بے نقاب ہوا ہے، افغان طالبان نے اپنی طرف کا گیٹ تباہ کرکے اسے پاکستان کی جانب موجود حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی جانب موجود پاک افغان دوستی گیٹ مکمل طور پر ٹھیک حالت میں ہے، افغان طالبان اور خارجی کل رات سے اپنے 100 سے زائد کارندوں کی ہلاکت کے باعث مکمل حواس باختہ ہوچکے ہیں، افغان طالبان جھوٹے سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے اپنی شکست اور نقصان کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان جھوٹے پروپیگنڈا کی اسی روش پر چل رہے ہیں جس پر بھارتی میڈیا چل رہا ہے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان کا پاک فوج کے ٹینکوں پر قبضے کا جھوٹا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی سخت اور شدید جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا اور انہوں نے پاک فوج کے ٹینک پر قبضے کا جھوٹا دعویٰ کردیا جس کی اصلیت سامنے آگئی۔
شکست خوردہ افغان طالبان بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لینے پر مجبور ہیں، افغان طالبان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پوسٹ شیئر کر کے جھوٹ پھیلانے کی ناکام کوشش کی، ویڈیو میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ٹی 55 ٹینک پاکستانی فوج سے چھینا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق روسی ساختہ ٹی 55 ٹینک حقیقت میں افغان طالبان کے زیر استعمال ہے، پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے حملے کو مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا، پاک فوج افغان طالبان کے جھوٹے پروپیگنڈا کے باوجود عزم و حوصلے کے ساتھ دفاع وطن میں مصروف ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان طالبان اور فتنۃ الخوارج افغان طالبان اور میں افغان طالبان افغان طالبان کے پاکستان کی اسپن بولدک پاک افغان کے مطابق دیا گیا پاک فوج کی کوشش کوشش کی کر دیا نے کہا
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
گلگت:گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔
مزید پڑھیںگلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے
گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟
دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔
ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔