کابل میں کوئی آئین موجود نہیں، وہاں ایک گروہ طاقت کے بل پر اقتدار میں ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
کابل میں کوئی آئین موجود نہیں، وہاں ایک گروہ طاقت کے بل پر اقتدار میں ہے، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 17 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان نے کہا ہے کہ کابل میں اس وقت کوئی آئین موجود نہیں، وہاں ایک گروہ طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں ہے تاہم پاکستان نے ہمیشہ کابل میں موجود کسی بھی حکومتی گروہ کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کی دفاعی کارروائیاں کسی صورت افغان عوام کے خلاف نہیں تھیں بلکہ یہ دہشت گردوں کے مخصوص ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں، پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کی اشتعال انگیزیوں پر گہری تشویش ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے سیزفائر ہوا، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ “پاکستان ہمیشہ ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے” تاہم افغان نگران وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بھارت میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان اور بھارت کے مشترکہ اعلامیے پر اپنے اعتراضات افغان ناظم الامور کے ذریعے کابل کو پہنچا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا جو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔شفقت علی خان نے واضح کیا کہ “پاکستان افغان وزیرِ خارجہ کے اس بیان کو بھی مسترد کرتا ہے جس میں دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیا گیا۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار افغانستان اور عالمی برادری کے سامنے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ “پاکستان نے چالیس لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی ہے اور ان کی وطن واپسی کا عمل قانون کے مطابق جاری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے طالبان حکومت دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ ایک دن افغان عوام اپنے حقیقی نمائندوں پر مشتمل حکومت کو دیکھیں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ سیکرٹری خارجہ نے غیر ملکی سفرا کو افغان طالبان کی حالیہ جارحیت کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔انہوں نے افغان طالبان کی جانب سے لاشوں کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل “ناقابلِ برداشت” ہے اور پاکستان نے اس معاملے کو کابل انتظامیہ کے ساتھ باضابطہ طور پر اٹھایا ہے، کابل میں اس وقت کوئی آئین موجود نہیں، وہاں ایک گروہ طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں ہے تاہم پاکستان نے ہمیشہ کابل میں موجود کسی بھی حکومتی گروہ کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔بھارت کے منفی کردار پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ “افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی بھارتی پشت پناہی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بھارت کی وزارتِ خارجہ کے بیانات اور افغانستان میں اس کے اثر و رسوخ پر عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔
چین سے تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ہر آزمائش میں پورے اترے ہیں، دونوں ممالک آئندہ برس اپنی سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منائیں گے، پاکستان چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے جدید ورژن پر کام کر رہا ہے، جو خطے کی ترقی اور عالمی استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ “پاکستان امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کا چیف جسٹس پاکستان کو خط عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کا چیف جسٹس پاکستان کو خط بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کابینہ کی تشکیل کا اختیار دیدیا مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ، مزید 24اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی بھارت سے ملکر کر جارحیت کر رہے ہیں،محمد عارف افغانستان بھارت کا مکمل پراکسی، اب ہمسایوں کی طرح رہنا ہوگا،وزیر دفاع حماس کی قطر، ترکیہ اور مصر سے غزہ میں سیز فائر پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کی اپیلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کوئی آئین موجود نہیں پر اقتدار میں ہے کابل میں
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔